برگِ سبز — Page 98
برگ سبز سے گزر رہے ہیں۔جس کی مختلف وجوہات ہیں۔اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بعض اصطلاحات کا ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں غلط استعمال کیا جا رہا ہے جیسے جہاد، شہادت اور اسلامی دہشت پسندی وغیرہ حالانکہ جہاد ایک مقدس اصطلاح ہے۔نیز جہاد کا بنیادی مقصد ظلم و ستم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا نظام نافذ کرنا ہے جبکہ دہشت گردی ظلم و ستم کو پروان چڑھاتی ہے۔اجلاس میں حکومتی ذمہ داران کی وضاحت کی تعریف کی گئی جس میں انہوں نے ان اصطلاحات کی تدارک کا وعدہ کیا ہے آئندہ مسلم دہشت پسند “ یا ”مسلم بنیاد پرستی“ وغیرہ کلمات سے احتیاط برتی جائے گی۔اجلاس میں مسلم کمیونٹی کے بعض افراد میں انتہاء پسندی اور شدت پسندی کے رجحانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کی وجوہات علم دین کی کمی سمیت معاشرہ میں ظلم کے نظام اور احساس محرومی کو ٹھہرایا گیا۔فتویٰ کے حوالے سے اجلاس میں کہا گیا فتویٰ دینا ایک اہم ذمہ داری ہے جس کا ہر شخص مجاز نہیں ہوسکتا بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے صرف چند ہی صحابہ کو ختص کیا گیا تھا کہ یہی حضرات فتویٰ دینے کے مجاز ہوں گے۔مفتی کے لئے سخت شرائط ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ غیر مجاز افراد کے فتویٰ کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔اس کے لئے اہل مسلم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کسی بھی شخص کو جو خود کو مسلمان کہتا ہو اور شعائر اسلامی کا حتی الامکان پابند ہو کافر کہنا غلط ہے۔98