برگِ سبز — Page 76
برگ سبز مبارک کی طرف آرہے تھے۔پیچھے سے ایک محترمہ کی آواز آرہی تھی جو غالباً اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کسی قدر بلند آواز سے اپنے خاوند کو بتا رہی تھیں کہ اور سب ملاقاتیں اور زیارتیں تو ہو گئی ہیں، محترم فرزند علی خان صاحب کا مکان نہیں ملا، وہاں بھی جانا تھا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ محترمہ حضرت خان صاحب کی نواسی ہیں۔خاکسار نے ان کو بھی وہ گھر دکھایا۔خوبصورت کہکشاں کے جن ستاروں کا محترم پروازی صاحب نے ذکر کیا ہے۔اس خاکسار کو بھی ان کی زیارت کا شرف حاصل ہے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کے مکان پہلو بہ پہلو تھے۔حضرت میر صاحب کے زیر علاج رہنے کی وجہ سے ان کے پیار سے خوب حصہ لیا۔حضرت مولوی صاحب کی ایک بیٹی ہمارے محلہ کی لجنہ کی صدر تھیں اس لئے ان کے ہاں اکثر جانے کا موقع ملتا تھا۔حضرت مولوی صاحب کے پاس بیٹھ کر ان کے ہاں کی لسی پینے کا بھی موقع ملتا رہا۔ابا جان کی دکان مسجد مبارک کے نیچے احمد یہ چوک کے ایک نکڑ پر تھی۔اسطرح مسجد کے نمازیوں، مدرسہ احمدیہ کے طلباء، دار الشیوخ کے لڑکوں ، مرکزی دفاتر کے ناظر صاحبان اور کارکنوں کو روزانہ ہی دیکھنے اور ملنے کی سعادت حاصل ہوتی۔جن دو بزرگوں کا ذکر کیا ہے ہے وہ تو ابا جان پر بہت شفقت فرماتے تھے اور جاتے آتے ایک آدھ مزے کا فقرہ کہتے ہوئے گزر جاتے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب بہت کم گو تھے وہ آہستہ آواز میں کچھ لفظ بولتے اور کچھ اشارہ کرتے ہوئے گزر جاتے۔ابا جان بتاتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کھاری بوتل برف میں لگانے کے لئے کہہ کر گئے ہیں۔کھاری بوتل سوڈا واٹر کی وہ بوتل ہوتی تھی جس میں میٹھا اور ایسنس نہیں ہوتا تھا اور جو ہاضمہ کے لئے اچھی سمجھی جاتی تھی۔حضرت مولوی صاحب اس میں برف ڈال کر پینا پسند نہیں کرتے تھے۔اس لئے ان کے لئے بوتل 76