برگِ سبز — Page 60
برگ سبز حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب ، حضرت میر محمد اسحق صاحب اور دوسرے کئی صحابہ رضی اللہ تعالی منظم اور بزرگوں کو دیکھا۔آسمان احمدیت کے ان درخشندہ ستاروں کی زیارت آج بھی خوشی اور مسرت سے دل کو لبریز کر دیتی ہے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں تو اس جگہ تل دھرنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔یوں لگتا تھا کہ جلسہ کے بعد جلسہ اس چوک میں آگیا ہے۔احمدیوں کی باہم ملاقات کی یہ بہترین جگہ تھی۔السلام علیکم کی گونج رہتی تھی اور پھر یہ بھی کہ ”بھائی جان ہم دس سال کے بعد پھر یہاں ہی مل رہے ہیں۔”اچھا ہو گیا آپ سے ملنے کی خوشی حاصل ہوئی۔”آپ یہاں کیسے۔آپ تو ہماری مخالفت کرتے تھے اور ہمیں بھی قادیان آنے سے منع کیا کرتے تھے“۔”احمدیت کی صداقت ہم پر ظاہر ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب مخالف نہیں بلکہ احمدی ہیں اور الحمد للہ آپ سے یہاں مل رہے ہیں اس چوک میں بعض بزرگ اپنے تبلیغی تجربات سنا کر لوگوں کے محظوظ کر رہے ہوتے۔ایسے ایک بزرگ محمد یوسف صاحب پشاوری تھے ( یہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب نہیں ہیں ) جو بخوشی بتایا کرتے تھے کہ کوئی بھی مخالف ہو میں اسے پانچ منٹ میں خاموش کر سکتا ہوں اور وہ ایسی بہت سی مثالیں بیان کیا کرتے تھے۔ایک اور درویش صفت بزرگ ( غالباً ان کا نام علی محمد پر دیسی تھا) کندھے سے کپڑے کی ایک جھولی سی لٹکائے پنجابی زبان کے اشعار سنا رہے ہوتے لوگ بخوشی ان سے چھوٹی چھوٹی کتابیں (جو ان کی جھولی میں ہوتی تھیں) ایک آنے دو آنے قیمت پر لے رہے ہوتے تھے۔مجھے یہ بزرگ اس لئے بھی یادرہ گئے ہیں کہ وہ میرے نانا جان حضرت حکیم اللہ بخش صاحب کے اشعار بھی سنایا کرتے تھے۔تجارتی لحاظ سے تو شاید یہ کوئی منافع بخش سلسلہ نہیں 60