برگِ سبز — Page 58
برگ سبز کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔مسجد مبارک سے متصل گول کمرہ تھا جو الدار کا ہی حصہ تھا اسکے ساتھ ساتھ آگے الدار یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش گاہ تھی۔مسجد مبارک کے ساتھ ہی ایک اور عمارت تھی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان رشتے داروں کی ملکیت تھی جو حضور کی پیشگوئی کے مطابق لا ولد اور منقطع النسل ہو گئے۔اس عمارت میں بھی سلسلہ کے دفاتر ہوتے تھے۔مسجد اقصیٰ سے آنے والی گلی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی تھی۔ایک حصہ اس عمارت کی طرف آنے کا راستہ تھا اور دوسرا مسجد مبارک کے نیچے سے ہوتا ہؤا احمد یہ چوک میں ختم ہوتا تھا۔پرانی عمارت یا مسجد مبارک کے مغرب کی طرف تھوڑی سی کشادہ جگہ یا بڑا صحن تھا جس میں ایک کنواں بھی تھا۔اس جگہ مرزا گل محمد صاحب حضور کے رشتہ داروں کی نسل میں سے بچنے والے واحد انسان تھے جو احمدیت سے تعلق کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انذاری پیشگوئی کا نشانہ بننے سے بچ گئے تھے۔اس احاطہ سے احمد یہ چوک کی طرف جانے والے راستہ پر گلشن احمد لکھا ہوا تھا جو اس بات کی یاد دہانی کرواتا تھا کہ اس جگہ کے مالک حضرت مسیح موعود کی صداقت کے نشان کے طور پر ختم ہو گئے اور خدائی تائید و نصرت کی برکت سے گلشن احمد ہی سدا بہار ہے۔مسجد اقصیٰ کی طرف سے آنے والی تنگ گلی جو بعض جگہ سے چھتی ہوئی تھی احمد یہ چوک میں ختم ہونے سے چند قدم پہلے مسجد مبارک میں جانے کے لئے تنگ سی سیڑھیوں کے پاس سے گزرتی تھی۔ہم نے حضرت مصلح موعود کو مسجد اقصیٰ جاتے اور وہاں سے واپس آتے ہوئے ان سیڑھیوں کو ہی استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔احمد یہ چوک میں پہنچنے کی جلدی میں کئی نشانات اور قابل ذکر عمارتوں اور باتوں کا ذکر رہتا جا رہا ہے تاہم یہ ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مقدمہ دیوار کا نشان ان سیڑھیوں کے قریب ظاہر ہو ا تھا۔حضرت 58