برگِ سبز — Page 296
برگ سبز کے ساتھ ساتھ دعاؤں پر زور دیکر اور توکل علی اللہ کے نتیجہ میں ساری خوشیاں سمیٹ لی جاتی ہیں۔کیونکہ یہ وہ طریق اور نصیحت ہے جو معلم اخلاق آنحضرت سلی شما یہ تم نے سکھائی ہے۔آنحضرت سلیم نے فرمایا کہ رشتہ ڈھونڈتے ہوئے کبھی تو حسب نسب کا خیال کیا جاتا ہے۔کبھی حسن و خوبصورتی کا خیال کیا جاتا ہے۔کبھی مال و دولت کا لالچ ہوتا ہے مگر تمہارے۔لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ دینداری کا خیال کرو اور اس کو باقی امور پر ترجیح دو۔حضور سی ای ایم کا ہی وہ مشہور واقعہ ہے کہ جب آپ کی پیاری بیٹی نے بعض مالی مشکلات کا ذکر کر کے اپنے لئے کسی سہولت کا مطالبہ کیا تو آپ نے شکوہ و شکایات سے پھوٹنے والی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بیٹی کے مطالبہ کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس سے بھی بہتر اور برتر بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ذکر الہی کے نتیجہ میں تعلق باللہ کی طرف توجہ دلا دی اور اپنے نمونہ اور عمل سے یہ بتایا کہ سمجھانا ہے تو پہلے اپنی بیٹی کو سمجھاؤ۔تربیت کے متعلق یہی سب سے مؤثر اور مفید ذریعہ ہے کہ جہاں بھی رشتہ نا تا میں کسی خرابی اور بگاڑ کا پتہ چلے تو ماں باپ کو سب سے پہلے دوسرے کی خرابی کو ڈھونڈنے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی کسی خرابی اور کمی کی تلاش کرنی چاہئے۔والدین کی پہلی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ یہ دیکھیں کہ ہمارے بچے میں کوئی کمی یا خرابی رہ گئی ہے یا دوسرے لفظوں میں ہماری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے ورنہ یہ خرابی پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی۔میاں بیوی کے اختلاف میں ابتدا کسی بہت ہی چھوٹی سی بات سے ہوتی ہے۔اگر اس چھوٹے سوراخ کو بند کرنے کی کوشش کی جاوے تو وہ بآسانی بند کیا جا سکتا ہے۔بعد میں یہ سوراخ اور شگاف بڑھتا جائے گا اور اس کی اصلاح نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جائے گی۔اس تھوڑی خرابی کی اصلاح کے لئے بھی ضروری ہوگا کہ والدین اپنے بچے کو (اپنے بیٹے یا بیٹی کو ) سمجھا ئیں اگر خرابی کو نظر انداز کرنے ، اگر 296