برگِ سبز — Page 295
برگ سبز اور دین کو دنیا پر مقدم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔والدین کو اس بات پر خوش ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے کہ ہمارا بچہ اپنے کاروبار میں بہت کامیاب ہے اور وہ اپنے کاروبار میں اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا ہے۔اگر یہ امرجائز طریق پر حاصل کیا گیا ہو تو ان کی خوشی بالکل بجا اور درست ہوگی۔خاکسار نے ایک ماں کوسنا وہ اپنے بیٹے کے متعلق یہ کہ کر خوش ہو رہی تھی کہ میرے بیٹے نے ایسی اچھی اور بڑی گاڑی خریدی ہے کہ وہ اس میں بیٹھا ہوا پوری طرح نظر بھی نہیں آتا۔غرض یہ کہ بچوں کی کامیابی اس کے بزرگوں کی کامیابی سمجھی جاتی ہے اور جب وہ خوشی سے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ضمناً اس میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے بچے کی ایسی اچھی تربیت کی ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔پچھلے دنوں میں اپنے ایک پرانے واقف سے ملا۔مجھے معلوم تھا کہ ان کی ایک ہی بیٹی ہے۔میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو وہ بڑے دکھی دل سے اس کے متعلق بتانے لگے جس سے پتہ چلا کہ وہ اپنے گھر میں خوش نہیں ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بچے کی کامیابی میں والدین کی اچھی تربیت کا دخل ہوتا ہے تو بچے کی ناکامی میں بھی اس کی تربیت کی کسی خرابی، کمی یا نقص کا ضرور دخل ہوگا۔رشتہ ناتا کے سلسلہ میں یہ امر بہت عام ہے کہ جب رشتہ مطلوب ہو تو ہر کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرا فریق ہر لحاظ سے معقول اور معیاری ہو اور جب ہر ممکن ذریعہ سے یہ تسلی کر لی جاتی ہے کہ فریق ثانی کسی لحاظ سے کم اور غیر معیاری نہیں ہے تو رشتہ کیا جاتا ہے۔وہ لوگ یقیناً خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ رسمی طور پر نہیں بلکہ واقعی طور پر دینداری کو ترجیح دے کر ایسا رشتہ حاصل کرتے ہیں جس میں دوسرے فریق کی دینداری مقدم ہوتی ہے اور اس 295