برگِ سبز

by Other Authors

Page 277 of 303

برگِ سبز — Page 277

برگ سبز اس مسئلہ پر عقلی رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے اس کالم نگار نے لکھا: پھر عقلی اعتبار سے دیکھئے کہ اگر ہر گروہ کے اس حق کو تسلیم کر لیا جائے کہ وہ اپنے اجتہاد سے جس کام کو برائی سمجھے اسے طاقت کے ذریعے ختم کرنے پرنکل پڑے تو کیا اس کے بعد کوئی مہذب معاشرہ قائم رہ سکتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ ایسا اقدام مذہب کی کوئی خدمت ہے اور نہ معاشرے کی۔مذہب کے نام پر فساد کی ایک ایسی انتہا پسندی ہے جس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔میرے نزدیک گوجرانوالہ کے واقعہ کو دو پہلوؤں سے الگ الگ دیکھنا چاہئے۔ایک یہ کہ مسئلے کی اصل نوعیت کیا ہے اور مذہبی و تہذیبی اعتبار سے اس کی گنجائش کتنی ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت اور مذہبی جماعتوں نے جو رویہ اپنا یا ،کیا اس کے لئے کوئی جواز موجود ہے۔میرا یہ تجزیہ دوسرے پہلو سے متعلق ہے۔میرے خیال میں یہ فریقین کی طرف سے اس انتہا پسندی کا ایک مظاہرہ ہے جس سے اس معاشرے کو خطرہ لاحق ہے۔روشن خیالوں اور اہل مذہب کے رویے کو ایک اور پہلو سے دیکھئے : ایک کی فکری معراج یہ ہے کہ روشن خیالی سڑکوں پر مردوزن کی مخلوط دوڑ کا نام ہے۔دوسرے کی ذہنی پرواز اتنی ہے کہ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کی بحالی اور مخلوط دوڑ کے خاتمے سے معاشرہ اسلامی بن جائے گا۔جس قوم کے قائدین کی ذہنی سطح کا عالم یہ ہو اس میں زندگی کے آثار کیسے پیدا ہوں گے؟“ جنگ لندن 12 را پریل 2005 ء ) 277