برگِ سبز — Page 276
برگ سبز ایسے فرد یا گروہ کو حاصل نہیں جو اقتدار نہیں رکھتا۔اگر کوئی گروہ طاقت کے ذریعے کسی برائی کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا یہ فعل فی نفسہ قابل تعزیر ہے۔معاملے کی یہ نوعیت اس وقت ہے جب اقدام کسی واضح برائی کے خلاف ہو۔اب اگر برائی کی تعریف ہی میں اختلاف ہے تو پھر طاقت کا استعمال سنگین تر جرم ہوگا۔فقہ حنفی کی معروف کتاب ہدایہ کے حوالے سے مولانا مناظر احسن گیلانی نے اس باب میں دین فطرت کا نقطہ نظر بہت خوبی سے بیان کر دیا ہے۔انہوں نے لکھا ہے یہ ہدایہ کے متن کا مسئلہ ہے کہ “ الامر بالمعروف باليد الى الامراء باللسان الى غير هم " جس کا مطلب یہی ہے کہ جو اقتدار کھتے ہیں انہی سے اس حکم کا تعلق ہے کہ بزورلوگوں کو حق پر قائم کرنے اور باطل سے ہٹانے کی کوشش کریں لیکن ایک عام آدمی جو حکومت کے اقتدار سے محروم ہے اس پر صرف زبان سے معروف کا امر اور منکر کی نہی واجب ہے۔یہاں تک کہ اس بنیاد پر امام ابوحنیفہ کا فتویٰ ہے کہ گانے بجانے کے آلات جو ممنوعات شریعہ میں سے ہیں ، اگر کسی مسلمان کے پاس ہوں اور دوسرا مسلمان ان کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے تو ڑ دے گا تو اس کا تاوان ادا کرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ان حدود میں تصرف کیا ہے جو اس کے فرائض کے دائرے سے خارج تھے۔قریب قریب مختلف الفاظ میں مالکی اور شافعی علماء کی کتابوں میں بھی لکھا ہے۔یعنی مارنے پیٹنے یا قتل وقتال پر آمادہ ہو جانا، یہ عام لوگوں کا کام نہیں۔“ امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی۔صفحہ 259-260) 276