برگِ سبز — Page 251
برگ سبز ہوتی کہ لوگ کہتے کہ مسلمان زندہ رہے تو اکٹھے اور مرے ہیں تو اکٹھے۔جو آدمی اس طرح قربانی کرتا ہوا جان دیتا ہے۔اس کی نسلیں اس پر فخر کرتی ہیں اور وہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہو جاتا ہے۔یوں مرجاؤ تو کوئی پوچھے گا بھی نہیں لیکن اگر قحط کا زمانہ ہو اور تم سب مل کر یہ فیصلہ کر لو کہ ہم اکٹھے کھائیں گے اور اکٹھے مریں گے اور پھر اس فیصلہ کے مطابق عمل کرو تو قیامت تک لوگ تمہارے عمل کو یاد رکھیں گے اور وہ اس واقعہ کا ذکر کر کے فخر محسوس کریں گے کہ انہوں نے کہا کہ ہم اکٹھے کھائیں گے اور اکھٹے مریں گے چنانچہ انہوں نے اکٹھے ہی کھایا اور اکٹھے ہی ذخیرہ ختم ہونے پر مر گئے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے اعمال ان کے مطابق بناؤ اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب کوئی قوم خدا تعالیٰ کی خاطر مرنے کیلئے تیار ہو جائے تو وہ نہیں مرا کرتی۔جب میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم مصیبت کے دنوں میں اکٹھے کھاؤ اور ا کٹھے مروتو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا بھی تمہیں مرنے دے گااسےاگر ساری دنیا کو مارنا پڑے گا تو وہ مار دے گا مگر تمہیں نہیں مارے گا کیونکہ تم نے اس کے لئے مرنا قبول کر لیا اور جو شخص اس کیلئے مرنا قبول کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایسا تو کل کرے کہ وہ اپنی موت اور اپنی بیوی اور بچوں کی موت برداشت کرے مگر اس بات کو پسند نہ کرے کہ دوسرے لوگ ہلاک ہوں وہ کبھی بر باد نہیں ہوسکتا۔فرض کرو اس کے پاس پانچ سیر غلہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس سے میں اور میرے بیوی بچے چند دن زندہ رہ سکیں گے مگر وہ اس بات کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ سے پانچ سیر غلہ لے لو اور دوسرے لوگوں کو دے دو تو یہ 251