برگِ سبز — Page 221
برگ سبز رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ہمارے جلسوں کی جو روایات قائم ہو چکی ہیں اس کے مطابق ان جلسوں میں علم و معرفت کی ترقی بنیادی امر ہے۔ہر شخص یہ بخوبی جانتا ہے کہ وہاں عام میلوں والی دلچسپیاں بالکل نہیں ملیں گی اس کے برعکس ایک سنجیدہ اور علمی وروحانی ماحول میں حضور ایدہ اللہ کے ارشادات اور بلند پایہ علمی تقاریر سنے کولیں گی۔تبلیغ و اشاعت اسلام کے منصوبوں پر غور وعمل ہوگا۔قرآنی معارف اور عظمت رسول صلی یتیم کے مضامین بیان ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں افراد کے اجتماع کا نہایت احسن رنگ میں انتظام جماعت کو دنیا بھر میں ایک ممتاز ومنفرد مقام عطا فرماتا ہے۔ایسا شائستہ پر وقار اجتماع باعث مسرت و افتخار ہے۔انتظامات میں بہتری کی گنجائش تو ہر جگہ موجود ہوتی ہے اور اس امر کے لئے اپنی اپنی جگہ کوشش بھی ہوتی رہتی ہے تاہم دنیا بھر میں ہر جگہ جلسہ میں شامل ہونے والے اور جلسہ کے انتظامات میں اخلاص سے حصہ لینے والے جماعت کی طرف سے مبارکباد اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔مہمانوں کی اکثریت واپس جاچکی ہے۔باقی بھی جانے کی تیاری میں ہیں ایسے ہی ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا: مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی الفضل انٹرنیشنل 20 اگست 2004ء) 221