برگِ سبز — Page 191
برگ سبز ایک فرد کو اس کی شکل اور خدو خال سے پہچان کر اس کی زبان میں بے تکلف گفتگو کی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ شخص اس غیر متوقع ملاقات سے بہت خوش ہوا اور بہت متاثر بھی۔مکرم مولانا صاحب نے کسی کتاب کی مدد کے بغیر اپنی یادداشت سے اس طرح تدریجی طور پر سواحیلی زبان سکھائی کہ کسی کتاب کی مدد سے بھی اس طرح بآسانی قدم بہ قدم زبان سیکھنا ممکن نہ تھا۔تنزانیہ میں قیام کے دوران بہترین سواحیلی جاننے والوں نے آپ کی زبان دانی اور مہارت کا اعتراف کیا۔آپ کا ذخیرہ الفاظ گریمر کاعلم اور تلفظ عمدہ تھا۔زبان دانی کے سلسلہ میں یہ عجیب بات بھی سامنے آئی کہ مکرم مولانا صاحب ہم سے بات کرتے ہوئے قادیان کے علاقہ کی پنجابی زبان اس طرح بولتے تھے کہ کبھی یہ شبہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے مگر جب سرائیکی بولنے لگتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ انہیں یہی زبان آتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی زبان میں باتیں کرتے رہے ہیں۔زبان دانی کے سلسلہ میں یہ لطیفہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایک دفعہ ہمارے بعض مربی صاحبان جنہیں مغربی افریقہ میں کام کرنے کا موقع حاصل ہوا تھا دفتر میں بیٹھے اپنی پرانی یادوں کو تازہ کر رہے تھے دوران گفتگو یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ مغربی افریقہ کی زبانوں میں ہم میں سے کسی نے اس طرح مہارت حاصل نہیں کی جس طرح مشرقی افریقہ میں کام کرنے والوں نے وہاں کی زبان سیکھ لی ہے۔باتوں باتوں میں کسی نے یہ بھی کہا کہ وہاں یہ یہ کام بہت مشکل تھا اور میرا خیال تو یہ ہے کہ اگر مولانا منور صاحب بھی وہاں جاتے تو زبان نہ پاتے۔اتفاق سے اسی وقت مولانا صاحب تشریف لے آئے اور آخری بات خود اپنے کانوں سے سن لی اور مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ دنیا کی کسی زبان کا نام لیں میں تیس دن میں اس میں بولنے کی قابلیت حاصل کرلوں گا۔کیونکہ میں زبان کتابوں سے نہیں بلکہ لوگوں 191