برگِ سبز — Page 186
برگ سبز خواب میں نیک لوگوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت پاچکے تھے اور اپنے آپ کو ایک اجنبی ملک میں سفر کرتے ہوئے بھی دیکھ چکے تھے اس لئے ربوہ میں قیام کے دوران بہت خوشی محسوس کرتے اور اپنے وقت کے ہر لمحہ کو بہتر رنگ میں صرف کرنے کیلئے کوشاں رہتے اور ہرلمحہ ایمان ویقین میں اضافہ محسوس کرتے۔خود دعا کرنے کے علاوہ آپ بزرگان سلسلہ کی خدمت میں بھی بڑی عقیدت سے حاضر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے۔ایسے ہی ایک موقع پر جب آپ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور امتحان میں کامیابی کی درخواست کی تو حضرت مولانا نے اسی وقت ہاتھ اُٹھا کر دعا کی اور بعد میں بتایا کہ انہوں نے دعا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی ہے جبکہ حضرت صاحب نے اپنا ہاتھ شیخ عمری عبیدی کے کندھے پر رکھا ہوا تھا۔پاکستان سے واپس آکر پہلے سے بھی زیادہ اپنے مذہب اور ملک وقوم کی خدمت کا موقعہ ملا۔صوبہ دار السلام کے مشنری انچارج کے طور پر بھی آپ نے خدمات سرانجام دیں اور خاص طور پر تعلیمی ترقی کی طرف توجہ کی۔چنانچہ اس زمانہ میں مشن ہاؤس میں متعدد کلاسیں جاری ہوگئیں۔مشنری ٹرینگ کلاس کے علاوہ جو پہلے سے مشن نے جاری کی ہوئی تھیں عربی، انگریزی اور قرآن مجید پڑھنے کیلئے کثرت سے لوگ آتے اور آپ بڑے انہماک سے ان سب کو پڑھاتے رہے۔آپ کو انگریزی، عربی اور اردو میں کافی مہارت تھی لیکن سواحیلی میں تو آپ اپنے وقت کے نابغہ تھے۔آپ نے آزاد تنزانیہ کے پہلے صدر کی آزادی کی جدوجہد میں کی گئی تقاریر کا سواحیلی میں ترجمہ کیا۔آپ کا اپنا دیوان بھی چھپا ہوا موجود ہے جس میں سواحیلی نظم کے متعلق ایک فنی مقالہ بھی 186