برگِ سبز — Page 158
برگ سبز صاحب نے تو اپنا پندرہ منٹ کا وعدہ پورا کر دکھایا ، مگر دعوت میں موجود غیر از جماعت معززین کے شوق کو دیکھ کر حضرت صاحب نے یہ ملاقات اور گفتگو نصف گھنٹہ تک جاری رکھی۔ازاں بعد دعا کی گئی اور حضرت صاحب احباب کی دلی دعاؤں کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوئے۔اس واقعہ کو یہاں پیش کرنے کا ایک یہ مقصد بھی ہے کہ اس کے پس منظر میں ایک اور بہت ہی ایمان افروز مثال ملتی ہے جو درج ذیل ہے : جڑانوالہ کے احباب کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت صاحب لائلپور (فیصل آباد ) تشریف لا رہے ہیں تو ہر احمدی اس سفر کی تیاری کرنے لگا۔جڑانوالہ کی ایک ضعیف و بیمار معمر خاتون نے اپنے بیٹے کو بالحاح و اصرار کہا کہ مجھے بھی اس مبارک سفر پر ساتھ لے جاؤ میں بھی حضرت صاحب کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو روشن کرنا چاہتی ہوں۔مگر کسی مجبوری اور مشکل کی وجہ سے اس بزرگ خاتون کا بیٹا اپنی مادر محترم کی اس خواہش کو پورا نہ کر سکا اور باوجود والدہ کے اصرار بلکہ منت سماجت کے وہ انکار پر ہی قائم رہا۔جب اپنی والدہ کو پیچھے چھوڑ کر سفر پر جانے لگا تو اس خاتون نے بڑے مان اور اعتماد سے کہا کہ بیٹا تم تو مجھے پیچھے چھوڑے جارہے ہو مگر میں نے سجدہ میں سر رکھ دینا ہے اور اس وقت تک سجدہ سے سر نہیں اٹھانا جب تک میرا خدا میرے آقا کو یہاں جڑانوالہ لانے اور مجھے زیارت کرانے کا وعدہ نہیں کر لیتا۔“ اس متوکل اور پر اعتماد خاتون کی خواہش کس طرح پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے غیر معمولی حالات میں حضرت صاحب" کو جڑانوالہ جانے 158