برگِ سبز

by Other Authors

Page 151 of 303

برگِ سبز — Page 151

برگ سبز حال اس وقت زمیندار کا ہو چکا تھا جب میں اسے روز کے روز پڑھنے لگا۔یہ بات قیام پاکستان کے ابتدائی ایام کی ہے جو زمیندار کے آخری ایام تھے۔کتابت ناقص اور اخبار بد زیب تھا مصلحت کا یہ عالم تھا کہ اخبار کا مسلک ہر روز تبدیل ہو جاتا اور جس کسی سے دام ملنے کی امید نظر آتی اخبار اس کا بندہ بے دام بن جاتا۔خبروں کی صحت کا یہ کمال تھا کہ ایک دن کسی کا جنازہ نکال دیتے اور اگلے روز اسی کے حق میں مسیحائی فرما دیتے۔۔۔ایک رات میں زمیندار کے دفتر میں داخل ہوا۔مجھے ایک خبر کی تفصیل در کار تھی جس کا ریڈیو پر اعلان ہو چکا تھا۔دفتر کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا۔ان دنوں دفاتر کے بارہ میں میر اعلم اور تجربہ بڑا محدود تھا میں نے دہلی میں وائسرائے کا دفتر اور کلکتہ میں اخبار سٹیٹسمین کا دفتر باہر سے دیکھ رکھا تھا۔اب جو اردو کے مشہور روزنامے کے دفتر میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا۔ایک کمرے میں مدہم سا بلب جل رہا تھا۔اور ایک کا تب اکٹروں بیٹھا ہوا تھا۔ایک لکڑی کا تخت اور دو چار کرسیاں خالی پڑی تھیں۔درودیوار پر حسرت برستی تھی۔اگلے کمرے کی حالت بھی ایسی تھی۔میز اور ڈیسک کچھ ایسے بے ترتیب اور خاک سے اٹے ہوئے تھے جیسے مدت سے ان کے استعمال کی نوبت ہی نہ آئی ہو۔کمرے کے وسط میں دو آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے میں نے کام بتایا جواب ملا کہ اس وقت دفتر میں کوئی نہیں۔ویسے وہ فہرست جو آپ کو درکار ہے وہ ہمارے دفتر میں ابھی تک نہیں پہنچی۔جب میں واپس مڑا تو وہ دونوں بھی کمرے کی بتی بند کر کے باہر نکل آئے۔اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ زمیندار کا چراغ گل ہو گیا۔زمیندار اخبار کا بڑا سا بورڈ اتار کر دفتر کی پیشانی پر زمیندار ہوٹل کا بورڈ لگا دیا گیا۔میں نے پہلی بار نیا بورڈ دیکھا تو مجھے زمیندار اخبار کے ادارتی عملے کے بہت سے نام یاد آنے لگے۔علامہ نیاز فتحپوری ، مولوی وحید سلیم پانی پتی، غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، عبداللہ العمادی اور چراغ حسن حسرت۔ان لوگوں کی جگہ اب 151