برگِ سبز — Page 127
برگ سبز اور تیسرا حصہ بھی۔تیسرا حصہ میرے پریس میں چھپ رہا تھا تو پادری صاحب مذکور نے حضرت صاحب کو بڑے تقاضے کے خط لکھے۔میں نے اپنا پریس ہال بازار میں ہی کھڑا کیا تھا۔ان کا مطبع ہال بازار سے ایک طرف کو تھا اور میر امطبع بازار میں لب سڑک تھا۔حضرت صاحب روپیہ لیکر قادیان سے امرتسر جب رجب علی کو دینے کیلئے تشریف لائے اور آپ نے ہال بازار میں چھاپہ خانہ دریافت کیا تو بتانے والے نے میرے مطبع کا پتہ بتا دیا تو حضرت صاحب میرے مطبع میں تشریف لے آئے۔یہاں تیسرا حصہ براہین احمدیہ کا چھپ رہا تھا۔حضرت صاحب نے سمجھا رجب علی کا یہی پر لیس ہوگا۔میں گھر پر تھا میرے ملازموں سے آپ نے فرمایا پادری رجب علی صاحب کہاں ہیں۔انہیں بلاؤ۔جب مجھے اطلاع ہوئی۔گھر قریب ہی تھا میں جلد آیا اور مصافحہ کیا۔حضرت صاحب رجب علی کو تو جانتے تھے اور مجھ سے واقف نہ تھے۔مجھے دیکھ کر متعجب سے ہوئے اور فرمایا یہ پریس رجب علی صاحب کا ہے؟ میں نے ادب سے عرض کیا کہ آپ ہی کا ہے۔پھر فرمایا کہ رجب علی صاحب کا پر یس کہاں ہے اور یہ ہماری کتاب جو چھپ رہی ہے اس مطبع میں کیسے آئی؟ میں نے عرض کیا کہ یہ ساری کتاب میں نے اپنے مطبع ریاض ہند میں چھاپی ہے۔۔۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ رجب علی صاحب ہمیں تنگ کرتے ہیں۔پیشگی روپیہ لے لیتے ہیں اور وقت پر کام نہیں دیتے۔“ یہاں یہ بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ حضرت شیخ نور احمد صاحب نے باقی کتاب اپنے مطبع میں چھاپنے کو اپنی سعادت و خوش بختی سمجھا اور یہ بھی کہ حضرت شیخ صاحب 127