برگِ سبز — Page 126
برگ سبز نے مجھے پریس مینی کا کام سکھایا کہ پریس مین بہت پریشان کرتے ہیں۔۔۔سید صاحب کے ایک دوست مراد آباد سے اخبار نکالتے تھے۔۔۔انہوں نے سید صاحب کو لکھا کہ ہمارا اخبارا اچھا نہیں چھپتا۔پریس مین کام خراب کرتے ہیں اور پریشان کرتے ہیں۔آپ ایک پریس مین میرے پاس بھیج دیں۔پس سید صاحب نے مجھے بھیج دیا اور کہا اگر اور کسی پریس مین کو ہم بھیجیں تو وہ کرایہ کے روپے بھی کھا جائے گا اور جس بات کی انہوں نے شکایت کی ہے وہ بھی رفع نہ ہوگی اس لئے میں آپ کو بھیجتا ہوں چند روز کام کر کے چلے آنا۔۔۔کاپی لکھنے کی سیاہی بنائی۔وہاں کوئی نہ جانتا تھا، میں بنانے لگا اور اشتہار شائع کروائے۔لدھیانہ، لاہور، امرتسر، دہلی وغیرہ سے لوگ میری سیاہی منگوانے لگے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس سیاہی کے ذریعہ سے امرتسر میں ایک اخبار وکیل ہندوستان پادریوں کا چھپتا تھا اس کے منیجر پادری رجب علی تھے، انہوں نے مجھے مراد آباد سے امرتسر بلوایا۔۔۔چونکہ مجھے امرتسر دیکھنے کا شوق تھا میں امرتسر آگیا۔۔۔اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے ایسا ہوا کہ 1878ء میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے پادری رجب علی کے مطبع سفیر ہند میں براہین احمدیہ کے چھپوانے کا انتظام کیا۔ان کے پریس مین میرے سپر د تھے اور میرے ہی اہتمام سے سب کام ہوتے تھے اور خاص کر کتاب براہین احمدیہ پادری صاحب نے چھاپنے کے لئے میرے سپرد کی اور میں نے اس کا اول حصہ اسی مطبع میں چھاپا پھر میں نے اپنا پر میں علیحدہ لگا لیا چونکہ چھپائی کا کام میرے ہاتھ سے صفائی سے ہوتا تھا اس لئے رجب علی صاحب نے دوسرا حصہ میرے ہی پریس میں چھپوایا 126