برگِ سبز — Page 115
برگ سبز امت اس کے پورا ہونے کی دعائیں کرتے اور اس کے مظہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے، اس کی تصدیق کرنے ، اسے آنحضرت صلی ستم کا سلام پہنچانے کی شدید تمنا اور خواہش رکھتے تھے۔یہ پیشگوئیاں سنت اللہ کے مطابق پوری ہوئیں اور گزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَہ ایک نرم و نازک سبز کونپل کی طرح پھوٹیں۔حقیقت بین اور چشم بصیرت رکھنے والوں نے ان معمولی سی چھوٹی سی کمزوری کو نپلوں کو پھوٹتے دیکھا تو خدا تعالیٰ کے شکر کے جذبات سے پُر ہو گئے۔دن رات اس خوش خبری کو دنیا میں پھیلانے لگے۔اس شکر پر کتنی برکتیں نازل ہوئیں ،کیسی ترقیاں ملیں۔کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار ابتداء میں مہمان خانہ حضرت مسیح موعود علیہ) کا اپنا رہائشی گھر تھا۔لنگر خانہ آپ کا ہی باورچی خانہ تھا لنگر کا منتظم ومہتم کوئی اور نہیں خود حضرت مسیح موعود علیشا) تھے۔گھر میں جو کچھ پکتا مہمان آنے پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا۔ان خوش قسمت مہمانوں پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے حق وصداقت کی خاطر سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے قادیان پہنچ کر اپنی پیشوائی اور استقبال کے لئے مامور زمانہ کو سامنے موجود پایا۔وہ غلام احمد ان مہمانوں کی شکل میں قرآنی صداقت اور آنحضرت ملالا یتیم کے بیانات کی تکمیل کی جھلک دیکھ کر شکر کے جذبات سے اپنے دست مبارک سے مہمانوں کی خدمت کرتے۔ہر وہ صحابی جسے اس زمانہ میں قادیان جانے کی سعادت حاصل ہوئی وہ دوسری باتوں کے علاوہ یہ ضرور بیان کرتے اور اس پر خوش ہوتے تھے کہ حضرت مسیح موعود عالیشام اکرام ضیف کی بہترین مثال تھے۔مہمانوں سے ان کی ضروریات اور عادات کا علم حاصل کرنا۔ایسی چیزیں جو قادیان میں نہ مل سکتی ہوں وہ 115