برگِ سبز

by Other Authors

Page 109 of 303

برگِ سبز — Page 109

برگ سبز حسنات سے مراد نماز ہے۔مگر آج کل یہ حالت ہورہی ہے عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے۔کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجه مترتب نہیں ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہیں کرتا۔آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض طبیب کے پاس جاتا ہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نمازیں پڑھتے ہیں اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہود نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نماز کوسنوار کر پڑھیں تو تنو یر قلب ہو جاتی ہے مگر یہاں تو پچاس پچاس برس تک نماز پڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور و بدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار اور انہیں نہیں معلوم کہ وہ نمازوں میں کیا پڑھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔۔۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں۔اب دیکھ لومثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔یادرکھورسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی کنجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ دعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند 109