برگِ سبز — Page 103
ہیں: برگ سبز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کے قیام کی غرض بیان کرتے ہوئے فرماتے اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان ، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔تقویٰ کا نوراس کے اندر اور باہر ہو۔اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو۔اور بیجا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اوّل اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بدگوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہرگز نہ بڑھاوے۔جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہ ہوگی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 127 ، 128 - ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) 103