برگِ سبز — Page 102
برگ سبز والے یہ محسوس کریں کہ ہم کسی عام آدمی سے معاملہ نہیں کر رہے بلکہ یہ تو کسی اور دنیا کا انسان ہے یہ تو کوئی اللہ والا انسان ہے جس کا دن خوف خدا سے بسر ہوتا ہے، جس کی راتیں تقویٰ سے گزرتی ہیں۔جس کے تمام اعضاء وجوارح بلکہ حواس پر بھی خدا تعالیٰ کے منشاء ومشیت کی مہر ہوتی ہے اور وہ وہی کچھ دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ دیکھے اور وہ وہی کچھ سنتا ہے جو اللہ تعالیٰ اسے سنانا چاہتا ہے۔غرضیکہ اس کا وجود خدا نما وجود بن جاتا ہے اور وہ عملی تفسیر بن جاتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔(الانعام: ١٦٢) یعنی کہہ دو میری نمازیں ، میری عبادتیں ، میری زندگی اور میری موت سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی یہ نہایت قیمتی مفید اور موثر نصیحت صرف خوش قسمت افریقن احمدیوں سے ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس کا تعلق ہر احمدی سے ہے وہ دنیا کے کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھتا ہو وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو وہ کیسے بھی حالات میں سے گزر رہا ہو اس کی پہلی ترجیح لازما یہی ہونی چاہیے کہ وہ احمدیت کے نور سے، احمدیت کی برکت سے،احمدیت کے انعام سے احمدیت کی صداقت سے پورا پورا فائدہ اٹھائے۔اس نصیحت پر عمل کرنے کی توفیق پانے والا ایک پرکشش کردار کا مالک ہونے کی وجہ سے ایسا داعی الی اللہ بن جائے گا جس کی دعوت و تبلیغ از خود لوگوں کو صداقت و حسن کردار کی طرف مائل کرے گی۔اسے اپنی بات منوانے اور سمجھانے کے لئے کسی بحث و گفتگو کی کم ہی ضرورت پیش آئے گی۔کیونکہ اس کا مثالی کردار اسلام کی سچائی پر ، احمدیت کی حقانیت پر قرآن مجید کی برتری پر آنحضرت سلائی کی ستم کی عظمت پر منہ بولتا نشان اور ثبوت ہوگا۔102