براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 68
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 68 افسوس کہ مولوی عبد الحق صاحب نے ان مکتوبات کو تمام و کمال درج نہیں کیا ورنہ من میں تھی کہ ان کے اوپر کافی روشنی پڑتی۔جس قدر اقتباس مولوی صاحب نے دیا ہے اس سے بھی یہ بات بخوبی پایہ ثبوت کو پہونچ جاتی ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں کوئی علمی امداد مولوی چراغ علی صاحب نے نہیں دی مکتوب اول کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے براہین احمدیہ ایسی کتاب کی تصنیف کے متعلق حضرت کو کوئی خط لکھا ہو اور اس میں اعانت کتاب کا وعدہ کیا ہے حضرت نے اس کے جواب میں جو خط لکھا اس میں دلائل یا مضامین وغیرہ کے بھیجنے کا ذکر بھی کیا۔لیکن وہ مضمون یا اس خط کا جواب تک بھی مولوی صاحب نے نہیں دیا جیسا کہ صاف لکھا ہے: “آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہونچا۔یہ فقرہ توجہ طلب ہے اس میں کتاب براہین کی تالیف کا ذکر ہے اور مولوی صاحب اگر کوئی مضمون لکھیں تو اس کے درج کرنے کا وعدہ کیا لیکن کس طرح: صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب وزینت بخشون۔" اس کا مطلب صاف ہے کہ میں بطور حاشیہ کے اس پر خود بھی کچھ لکھوں گا۔چنانچہ اس کی صراحت اس فقرہ میں ہے کہ : “ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندر درج کر دوں گا۔اور اسے بھی مولوی چراغ علی صاحب کی مرضی پر چھوڑا ہے یعنی “ آپ کی مرضی ہو تو۔۔۔میرے پاس بھیج دیں۔" اور اصلی حقیقت یہ ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب کو اس خط و کتابت کی بناء پر کچھ لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔خود ان مکتوبات کے اندرونی شواہد ایسے زبر دست ہیں کہ کسی محقق کے لئے انکار کی گنجائش نہیں۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کوئی مضمون لکھتے تو حضرت اسے حاشیہ میں ضرور درج کر دیتے یا بطور ضمیمہ وہ اصل کتاب کا جزو قرار دے کر اسے شائع نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ آپ کے مکتوبات سے ظاہر ہے۔مولوی چراغ علی صاحب اگر کچھ بھی لکھتے تو حضرت اقدس کی شکور فطرت اس کے اظہار سے مضائقہ نہ کرتی۔نواب اعظم یار جنگ کی نہایت حقیر امداد کا جو انہوں نے کتاب کی اعانت (بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا) کتاب کی خریداری کی صورت میں کی شکر یہ ادا کیا ہے۔وہ تو ایک بڑے آدمی تھے آپ نے ان لوگوں کا بھی نام بنام شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے کچھ آنے کتاب کی امداد میں دیئے تھے۔غرض یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں کسی شخص کی علمی یا دماغی قوت کا دخل نہیں۔اس سلسلہ میں راقم الحروف خطوط کی ترتیب نو درج بالا کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ پہلے خط میں ذکر ہے “اجتماع بر این قطعیہ اثبات نبوت حقیقت قرآن شریف کا اور دوسرے خط میں اسی کا ذکر ہے یعنی “ آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی”۔اور یہی دو خطوط ہیں جن کو مولوی عبد الحق صاحب نے توڑ مروڑ کر چار بنا کر من مانے نتائج نکالے ہیں۔8۔کتاب براہین احمدیہ کے مضامین و ضخامت کا صرف حضرت مرزا صاحب کے خطوط منقولہ مقدمہ اعظم الکلام۔۔۔میں ہی ذکر نہیں بلکہ اس کا ذکر حضرت اقدس کے اشتہارات جو 1879ء میں اخبار “ منشور محمدی ” (بنگلور۔میسور) سے شائع ہوتا تھا میں بھی ہے۔ملاحظہ ہوں حضرت مرزا صاحب کے وہ اشتہارات اور خطوط کے متعلقہ مقامات: مجموعہ اشتہارات