براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 50 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 50

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 50 ہے۔آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روزِ روشن کے فوائد اہل بصارت پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ فرمایا: وَ تِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ، وَ مَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُوْنَ 31 یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔علی ہذا القیاس جس طرح آنکھ کے نور کے فوائد صرف آفتاب ہی سے کھلتے ہیں اگر وہ نہ ہو تو پھر بینائی اور نابینائی میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔اسی طرح بصیرت عقلی کی خوبیاں بھی الہام ہی سے کھلتی ہیں۔کیونکہ وہ عقل کو ہزارہا طور کی سرگردانی سے بچا کر فکر کرنے کے لئے نزدیک کا راستہ بتلا دیتا ہے۔الہام کے تابعین نہ صرف اپنے خیال سے عقل کے عمدہ جو ہر کو پسند کرتے ہیں بلکہ خود الہام ہی اُن کو عقل کے پختہ کرنے کے لئے تاکید کرتا ہے۔پس اُن کو عقلی ترقیات کے لئے دوہری کشش بھینچتی ہے۔ایک فطرتی جوش جس سے بالطبع انسان ہر ایک چیز کی ماہیت اور حقیقت کو مدلل اور عقلی طور پر جاننا چاہتا ہے۔دوسری الہامی تاکیدیں کہ جو آتش شوق کو دو بالا کر دیتی ہیں۔کلام مقدس میں فکر و نظر کی مشق کے لئے بڑی بڑی تاکید میں ہیں۔یہانتک کہ مومنوں کی علامت ہی یہی ٹھہرا دی کہ وہ ہمیشہ زمین اور آسمان کے عجائبات میں فکر کرتے رہتے ہیں اور قانون حکمتِ الہیہ کو سوچتے رہتے ہیں۔جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں فرمایا: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ النل۔۔۔22 جبکہ دوسری الہامی کتابیں جو کہ محرف اور مبدل ہیں ان میں نامعقول اور محال باتوں پر جمے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے جیسی کہ عیسائیوں کی انجیل شریف مگر یہ الہام کا قصور نہیں یہ بھی عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔غرض خد اکا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں بلکہ عقل ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے۔نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الہی تیر افرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا 33 حضرت مرزا صاحب کا پیش کردہ اسلام کا موقف نہ سخت اور تبدیلی پذیر نہیں اور نہ ہی مذہب اسلام مانع ترقی ہے۔فھو المراد۔براہین احمدیہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ نہ تو مولوی چراغ علی صاحب نے اس کا مطالعہ کیا ہے اور نہ ہی مولوی عبد الحق صاحب نے اسے پڑھنے کی تکلیف کی ہے۔وگرنہ ایسی بے راہ روی کا مظاہرہ پادریوں کے جواب میں نہ مولوی چراغ علی صاحب کرتے اور نہ ہی مولوی عبد الحق صاحب ایسی الزام تراشی کرتے۔میں اگر بد گمانی نہیں کر رہا تو یہ سرسید گروپ کے نیچریوں کا تکبر ہی تھا جس نے انہیں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے ہمعصر ہونے کے باوجود آپ کی کتاب براہین احمدیہ کی مالی اعانت میں دس روپیہ کا نوٹ بھجوانے کے باوجو د جب اُن کے پاس کتاب گئی ہو گی اور یقین گئی ہو گی اس براہین احمدیہ کے مطالعہ سے حیدر آباد کے لوگوں نے احمدیت قبول کی جن کا اس مضمون کے پیر انمبر 8-7 میں ذکر بھی کیا گیا ہے۔لیکن وہ سرسید ، مولوی چراغ علی، مولوی عبد الحق وغیرہ) اپنے نیچر یانہ تکبر کے باعث اسے پڑھنے سے محروم رہے اور پادریوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسلام کے دفاع کی کوششوں میں اُلٹا اسلام کے موقف کے نقصان کا باعث بنے۔خواہ مولوی چراغ علی صاحب کو حضرت مجد د شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی حجۃ اللہ البالغہ سے خلاف منشاء مصنف اقتباس لینا پڑا انہوں نے بجائے اسلام کو فائدہ پہنچانے کے نقصان پہنچایا۔جس کا انہیں اختیار نہیں تھا۔اسی طرح مولوی عبد الحق صاحب المعروف بابائے اردو نے بھی بغیر براہین احمدیہ کے مطالعے کے حضرت مرزا صاحب کے خطوط مندرجہ مقدمہ اعظم الكلام فی الارتقاء سے غلط نتائج کا استخراج کیا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے احوال و آثار (life and works) سے