براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 49
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 3-5- کیا اسلام اصلاً بہت سخت ہے اور تبدیلی پذیر نہیں ہے ؟ اور مذ ہب اسلام مانع ترقی ہے ؟ 66 49 وہ خیالات جو پادری میکم میکال نے رسالہ کنٹمپور یر ی ریویو” “ Contemporary Review” اگست 1881ء میں لکھے تھے۔جن کے جواب میں مولوی چراغ علی صاحب نے دسمبر 1882ء میں ریفارمز انڈر مسلم رُول 22 کتاب لکھی۔جس میں ان خیالات کا جواب دیتے ہوئے موصوف نے اسلام کے بنیادی عقائد ہی سے انحراف کر دیا۔ان میں سے چند ایک کے بارے میں زیر نظر کتاب میں ایک تقابلی مقابلہ درج کیا گیا ہے۔یہ خیالات پادریوں سے لے کر ہندوستان میں برہمو سماجیوں نے زبان و بیان کو بدل کر اسلام کے خلاف پیش کر دیئے۔کیونکہ اسلام کی بنیاد الہامی / الہام پر مبنی ہے اور اسے بہت سخت اور نا قابل تبدیلی اور مانع ترقی کے پیش کیا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے برہمو سماجیوں کے ان خیالات کو بطور ایک وسوسہ قرار دے کر اس کا جواب براہین احمدیہ میں بطور ہر ہمو سماجیوں کے وسوسہ دہم کے تحریر فرمایا۔آپ اس وسوسہ کو یوں درج کرتے ہیں: “۔۔۔اور تقریر اس اعتراض کی یوں کرتے ہیں کہ الہام خیالات کی ترقی کو روکتا ہے اور تحقیقات کے سلسلہ کو آگے چلنے سے بند کر تا ہے۔کیونکہ الہام کے پابند ہونے کی حالت میں ہر ایک بات میں یہی جواب کافی سمجھا جاتا ہے کہ یہ امر ہماری الہامی کتاب میں جائز یا ناجائز لکھا ہے۔اور قومی عقلیہ کو ایسا معطل اور بیکار چھوڑ دیتے ہیں کہ گویا خدا نے ان کو وہ قو تیں عطاہی نہیں کیں۔سو بالآخر عدم استعمال کے باعث سے وہ تمام قوتیں رفتہ رفتہ ضعیف بلکہ قریب قریب مفقود کے ہو جاتی ہیں۔۔۔معرفت کاملہ کے حصول سے الہامی کتابیں سدِ راہ ہو جاتی ہیں۔" 30 اس کے بعد حضرت مرزا صاحب اس کا جواب تحریر فرماتے ہیں۔ملاحظہ ہو اس جواب کا خلاصہ : یہ بر ہمولوگوں کی کمال درجہ بد فہمی، بد اندیشی اور ہٹ دھرمی ہے۔(راقم الحروف اس میں عیسائی پادریوں کو بھی شامل کرتا ہے )۔اس عجیب و ہم کی عجیب طرح کی ترکیب ہے۔جس کے اجزاء جھوٹ، تعصب، جہالت ہے۔جھوٹ یہ کہ باوصف اس بات کے کہ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ حقانی صداقتوں کی ترقی ہمیشہ انہیں لوگوں کے ذریعے ہوتی ہے کہ جو الہام کے پابند ہوتے ہیں اور وحدانیت کے اسرار دنیا میں پھیلانے والے وہی بر گزیدہ لوگ ہیں جو خدا کی کلام پر ایمان لائے۔مگر عمد ااس واقعہ کے خلاف بیان کیا ہے۔تعصب یہ کہ اپنی بات کو خوانخواہ سر سبز کرنے کے لئے اس بدیہی صداقت کو چھپایا ہے کہ الہیات میں مجرد عقل مرتبہ یقین کامل تک پہنچا سکتی ہے۔جہالت یہ کہ الہام اور عقل کو دو امر متناقض سمجھ لیا ہے۔حالانکہ سچے الہام کا تابع عقلی تحقیقات سے رُک نہیں سکتا۔بلکہ حقائق اشیاء کو معقولی طور پر دیکھنے کے لئے الہام سے مدد پاتا ہے۔الہام کی حمایت اور اس کی روشنی کی برکت سے عقلی وجوہ میں کوئی دھو کہ اس کو پیش نہیں آتا اور نہ خطا کار عاقلوں کی طرح بے جا دلائل کے بنانے کی حاجت پڑتی ہے اور نہ کچھ تکلف کرنا پڑتا ہے بلکہ : جو ٹھیک ٹھیک عقلمندی کی راہ ہے وہی اُس کو نظر آجاتا ہے۔جو حقیقی سچائی ہے اسی پر اس کی نگاہ جا ٹھہرتی ہے۔عقل کا کام یہ ہے کہ الہام کے واقعات کو قیاسی طور پر جلوہ دیتی ہے۔الہام کا کام یہ کہ وہ عقل کو طرح طرح کی سرگردانی سے بچاتا ہے۔نتیجہ اس صورت میں عقل اور الہام میں کوئی جھگڑا نہیں۔(کیونکہ) الهام حقیقی یعنی قرآن شریف عقلی ترقیات کے لئے سنگ راہ ہے بلکہ عقل کو روشنی بخشنے والا اور اُس کا بزرگ معاون اور مددگار اور مربی