براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 44 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 44

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 44 وجہ سے امتحان پاس نہ کر سکے۔محل مولوی محمد بخش کے انتقال کے بعد ان کے سب اہل و عیال ان کی والدہ، بیوی اور بچے میر مجھے واپس آگئے۔مولوی چراغ علی نے اپنی دادی اور والدہ کے زیر سایہ میر ٹھ میں تعلیم پائی۔لیکن یہ تعلیم بالکل معمولی تھی اور سوائے معمولی اُردو، فارسی اور انگریزی کے نہ کسی علم کی تحصیل کی اور نہ کوئی امتحان پاس کر پائے۔اس زمانے میں کمشنری گورکھ پور میں ضلع بستی نیا نیا قائم ہو ا تھا۔وہاں کے خزانے کے منشی گری پر ہیں روپیہ تنخواہ پر مولوی چراغ علی کا تقرر ہوا۔12 13 مولوی محمد زکریا جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے اس زمانے میں سہارن پور سے ضلع بستی میں محکمہ انجینئری میں مقرر ہو کر آئے۔قدیمی خاندانی تعلقات کی بنیاد پر دونوں ایک ہی جگہ رہنے لگے۔کچھ دنوں بعد محمد زکریا بستی کی خدمت سے مستعفی ہو کر لکھنو چلے گئے۔وہاں اُن کا تقرر ایک اچھی جگہ ہو گیا۔موصوف نے لکھنو سے مولوی چراغ علی کو اطلاع دی کہ آپ کے والد (مولوی محمد بخش) کے ایک محسن مسٹر گورا سلی لکھنو میں جوڈیشل کمشنر ہیں۔غالباً 1872ء یا 1873ء میں مولوی چراغ علی لکھنو گئے اور مسٹر گورا سلی سے ملے۔اتفاق سے اس وقت جو ڈیشل کمشنری میں عارضی طور پر ڈپٹی منصر می کی جگہ خالی تھی لہذا اس وقت اُن کا تقرر اسی خدمت پر بمشاہرہ (اسی روپیہ۔80 ناقل) ہو گیا۔کچھ دنوں کے لئے بطور قائم مقام رہے بعد میں مستقل ہو گئے۔تھوڑے عرصے کے بعد سیتاپور میں تبادلہ ہو گیا۔سر کاری کام کے بعد باقی تمام وقت مولوی چراغ علی لکھنے پڑھنے میں صرف کرتے تھے۔پادری عماد الدین کی کتاب “ تاریخ محمدی ” کے جواب میں آپ کا رسالہ تعلیقات ”اسی زمانہ کا لکھا ہوا ہے۔علاوہ ازیں“ منشور محمدی ”مخبر صادق، لکھنو، تہذیب الاخلاق میں آپ کے بعض مضامین شائع ہو نا شروع ہو گئے۔وحدت ذوق سرسید سے اُن کے تعارف کا باعث ہوئی۔اگر چہ اب تک ملاقات کی نوبت نہیں آئی تھی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ خط و کتابت شروع ہو گئی تھی۔اور تہذیب الاخلاق ” میں بھی مضامین لکھا کرتے تھے۔چنانچہ جب سرسید لکھنو تشریف لائے تو مولوی صاحب مرحوم اُن سے ملنے کے لیے سیتا پور سے لکھنو گئے۔کچھ عرصہ بعد جب ریاست حیدر آباد سے کچھ کام ترجمہ وغیرہ کا سرسید کے پاس آیا تو انہوں نے مولوی چراغ علی کو اس کام کے سر انجام دینے کے لیے منتخب کیا۔اس بناء پر 1876ء میں مولوی چراغ رخصت لے کر علی گڑھ تشریف لے گئے اور کئی ماہ سر سید کے پاس رہ کر اس کام کو بکمال خوبی انجام دیا۔جس کا معاوضہ بھی ریاست سے اُن کو ملا۔اس کے ایک سال بعد 1877ء میں نواب سر سالار جنگ اعظم نے بتوسط مولوی مہدی علی (نواب محسن الملک) سرسید سے ایک لائق شخص طلب کیا۔سرسید نے مولوی چراغ علی کو منتخب کیا اور وہ حیدر آباد چلے گئے۔جہاں آپ عہدہ اسسٹنٹ ریونیو سیکرٹری ( مددگار معتمد مالگزاری) پر بمشاہرہ چار سو روپیہ پر مامور ہو گئے۔14 نواب محسن الملک کے بعد مولوی چراغ علی کا تقرر معتمدی مالگزاری پر ہوا۔عہد وزارت سر آسماں جاہ بہادر مولوی چراغ علی صو به داری در نگل پر مامور ہوئے۔پھر صوبہ داری گلبرگہ میں تبادلہ ہو گیا۔دو سال بعد معتمد مال و فینانس مقرر ہوئے مطالعہ میں بے حد شغف تھا۔3-2- ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ کی رائے : مولوی چراغ علی عیسائیوں کے مقابل پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی اتباع کرتے تھے ولفریڈ کینٹ ویل سمتھ کے مطابق صورت حال مولوی عبد الحق صاحب کے بیان سے مختلف ہے۔بلکہ بقول ولفریڈ سمتھ مولوی چراغ علی