براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 43
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام باب سوم: نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی صاحب تعارف و تنقیدی تبصره 43 3-1۔نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی مرحوم (1845-1895) مولوی چراغ علی کے والد کا نام مولوی محمد بخش تھا۔اُن کے آباؤ اجداد سرینگر کشمیر کے رہنے والے تھے۔مولوی محمد بخش کلکٹر سہارنپور کے ہیڈ کلرک تھے۔پنجاب کے مختلف اضلاع ملتان، ڈیرہ غازی خان، بنوں، شاہ پور اور سیالکوٹ میں محکمہ بندوبست کے مختلف عہدوں پر رہے۔انگریزی دان تھے اور انگریزی لباس پہنتے تھے۔اس لیے محمد بخش کرانی کے نام سے مشہور تھے۔اکرانی کا لفظ اس زمانے میں انگریزی کلرکوں کے لئے بجائے بابو کے استعمال ہو تا تھا موصوف کے اس عہدے پر تعیناتی کو مولوی عبدالحق قابلیت اور لیاقت کی شہادت متصور کرتے ہیں جو کسی طرح ڈپٹی کمشنر یا کلکٹر کے عہدے سے کم نہیں۔لیکن مولوی صاحب نے محمد بخش کی تعلیمی قابلیت اور انگریزی دانی 4 کے حصول کی کوششوں پر کوئی روشنی نہیں ڈالی ! یہ مانا کہ محمد بخش ایسے ہی قابل اور انگریزی دان ہوں گے۔کہ حکومتِ وقت نے انہیں ایسے عہدے پر سر فراز کیا۔مگر اُن کی اس قابلیت کے ارتقاء پر بھی کوئی مددگار حوالہ ہونا چاہیے تھا جو مولوی عبد الحق صاحب نے نہیں دیا ہے۔مولوی چراغ علی کے دادا ( جن کا نام مولوی عبد الحق صاحب نے درج نہیں کیا) ایک مدت تک پنجاب میں ملازم رہے۔کیا ملازمت کرتے رہے اس کا بھی اندراج نہیں کیا اور وہاں سے میر ٹھ آئے اور وہیں آباد ہو گئے۔مولوی چراغ علی کے والد میر ٹھ میں ملازم ہوئے۔بعد ازاں اُن کا تبادلہ سہارنپور ہو گیا۔5 1849ء میں جب انگریزوں نے پنجاب کا الحاق کیا تو موصوف کا انتخاب محکمہ بندوبست میں ہوا۔اور رفتہ رفتہ مہتمم بندوبست کے عہدے پر پہنچے۔1856ء میں جبکہ موصوف کی عمر پینتیس برس تھی۔سیالکوٹ میں انتقال ہو گیا۔7 اور شمولوی محمد بخش مر حوم کا مقبرہ میرٹھ میں موجود ہے۔یہ بہ دوران تصنیف مقدمہ اعظم الکلام 1910ء کے زمانہ کی باتیں ہیں اب اس مقبرے کی نشاند ہی کوئی کر سکتا ہے یا نہیں ؟ مولوی عبد الحق صاحب نے یہ معلومات مولوی زکریا سہارنپوری (وظیفہ یاب حسن خدمت سر کار نظام) سے حاصل کیں تھی جو مولوی محمد بخش اور اُن کے خاندان کو اس وقت سے جانتے تھے جب کہ مولوی محمد بخش سہارن پور میں ملازم تھے۔10 مصنف “ تاریخ اقوام کشمیر ” (مولوی محمد الدین فوق) نے اپنے والد کے حوالے سے لکھا ہے کہ اُن کے دادار جب علی ڈار 1849ء میں بندوبست کا کام سیکھتے تھے۔ان کے افسر اعلیٰ کا نام مولوی محمد بخش تھا۔وہ کشمیری تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ رجب علی بھی کشمیری ہیں تو وہ بڑے خوش ہوئے۔اور جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی ذات ڈار ہے۔تو انہوں نے اور بھی شفقت کا اظہار کیا اور انہی کے طفیل وہ سیالکوٹ میں پٹواری ہو گئے۔میاں رجب علی کا بیان ہے کہ ان کے مہتمم بندوبست مولوی محمد بخش بھی ذات کے ڈار ہی تھے۔1 مولوی محمد بخش مرحوم کے چار بچے تھے۔جن کے نام چراغ علی ، ولایت علی، عنایت علی اور منصب علی تھا۔چراغ علی بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔مولوی محمد بخش کے انتقال کے وقت چراغ علی کی عمر بارہ برس سال سے زائد نہ تھی۔چراغ علی اپنے باپ کے انتقال کی