براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 16
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 16 بیٹھے۔مولوی صاحب کے اس غیر متوازن جوش و خروش کی نشان دہی آغا محمد باقر صاحب نے بھی کی ہے۔آپ لکھتے ہیں:۔نیچر کی شاعری کے اصل موجود مولانا آزاد تھے۔مولانا حالی نے مقدمہ دیوان حالی کی ابتدا میں ایک مضمون حالی کی کہانی حالی کی زبانی ” تحریر کیا ہے۔اس میں انہوں نے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ نیچر کی شاعری کا مشاعرہ مولانا آزاد نے شروع کیا تھا لیکن ابنائے زمانہ نے ایجاد کا سہر امولانا حالی کے سر باندھ دیا۔ہمارے بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق صاحب مسدس حالی صدی ایڈیشن یہ مضمون مقالات عبد الحق میں بھی موجود ہے) میں مولانا کی انکساری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نیچر کی شاعری کے موجد اصل میں مولانا حالی تھے۔لیکن انکساری اور فروتنی کا یہ عالم تھا کہ اس کا سہر امولانا آزاد کے سر ہمیشہ کے لئے باندھ گئے ” مجھے مولانا حالی جیسے قابل احترام بزرگ کی خاکساری اور فروتنی سے تو کسی صورت بھی انکار کی جسارت نہیں ہو سکتی لیکن مولوی صاحب کی زبر دستی کی تردید اور وہ بھی کمال ادب سے کرنی پڑی۔یہ جسارت علمی اور تاریخی معاملات میں قال عفو ہے۔اور اہل علم کے غیر متوازن جوش و خروش کے علی الرغم مؤدبانہ احتجاج کوئی گناہ نہیں۔۔۔۔الخ " 12 مولوی عبد الحق صاحب کے بارے میں عام طور پر یہی رائے مشہور ہے کہ موصوف بے تعصب تھے مگر اس کا اطلاق آپ کے تمام کام پر نہیں کیا جاسکتا۔آپ کے بارے میں ایک مصنف رقمطراز ہیں کہ مولوی عبد الحق سرسید کے کالج کے ابتدائی گروپ کے طالب علم رہے تھے وہ دبستان حالی کے خوشہ چیں بھی تھے۔اس لئے شبلی کے بارے میں ان کا رویہ معاندانہ رہا۔ان کو یہ بات بہت ناگوار گزری کہ شبلی نے “ حیات جاوید کو کتاب المناقب اور مدلل مداحی ” کہا۔حافظ محمود شیرانی کی شعر الجسم پر تنقید رسالہ “ اردو ” (اور نگ آباد) کی کئی قسطوں میں شائع ہوئی۔جس کے ایڈیٹر مولوی عبد الحق تھے۔“ معارف ” (اعظم گڑھ ) میں تنقید کا جواب دیا گیا تور سالہ "اردو" کے اگلے شمارے میں اس کے جواب میں ایک مضمون چھپا جس پر مولوی عبد الحق نے سرخی لگائی “ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ” ایک خالص علمی بحث میں اس طرح کے غیر متین الفاظ کا استعمال کیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ سید صاحب سے کہیں پر خاش رکھتے تھے۔شیخ محمد اکرام کا بیان ہے کہ مشہور محقق اور مصنف ڈاکٹر سید عبد اللہ 1930 ء سے 1940 ء تک مولوی عبد الحق سے صرف اس لئے قطع تعلق کئے رہے کہ وہ (عبد الحق ان کے ہیر و شبلی) کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔خود شیخ محمد اکرام بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مولوی عبد الحق کا دل شبلی کی طرف سے صاف معلوم نہیں ہوتا ہے۔“حیات جاوید ” کے متعلق شبلی کے خیالات انہیں ضرور ناگوار گزرے ہوں گے۔”13 1930ء میں مولانا الطاف حالی کے فرزند سجاد حسین حالی، شیخ محمد اسماعیل پانی پتی کو حیدر آباد دکن لے گئے وہاں آپ کی ملاقات مولوی عبد الحق سے ہوئی۔مولوی عبد الحق صاحب نے شیخ صاحب سے آپ کا مرتب کردہ مولانا حالی کے مضامین کا مجموعہ جو آپ نے 14 برس کی محنت کے بعد ترتیب دیا تھا بڑے اصرار سے اشاعت کے لئے لے لیا۔مگر جب وہ مجموعہ شائع ہوا تو سر ورق سے آپ کا نام بحیثیت مرتب غائب تھا۔اور اندر دیباچہ میں مولوی عبد الحق صاحب نے لکھ دیا کہ یہ مضامین کچھ میرے کچھ محمد اسماعیل کے مرتب کئے ہوئے ہیں۔بقول شیخ صاحب“حالانکہ ان مضامین کی ایک سطر بھی مولوی صاحب کی مہیا کی ہوئی نہیں تھی۔یہ سب سے پہلی بد معاملگی تھی جو کسی پبلشر نے میرے ساتھ کی۔14 اور یہ کتاب آج بھی مولوی عبد الحق کے نام سے بطور مرتب مقالات حالی مشہور ہے۔جبکہ مولوی عبد الحق صاحب کی طرف سے اس کتاب کے علاوہ کوئی اس پائے کی مرتبہ کتاب موجود نہیں۔مگر شیخ محمد اسماعیل پانی پتی مرحوم کی حالی پر مرتبہ کتابوں کا ذکر ہی کیا وہ تو