براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 196
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 196 کئے گئے ہیں تاکہ انسانیت کا عاجزی اور خاکساری سے احیاء نو کیا جائے اُس طریق پر جیسا کہ حضرت عیسی نے دعوت دی تھی۔اور انہیں بتایا کہ اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام مکمل مذہب ہے، قرآن کریم فی الواقعہ خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے۔اس سچائی کو جو کوئی پر کھنا چاہے وہ قادیان تشریف لائے اور ایک سال تک سچائی کی تلاش میں آپ کے ساتھ ٹھہرے۔اُسے دو سو روپیہ ماہانہ کے حساب سے دیا جائے گا اگر اُسے کوئی نشان نہ دکھایا گیا۔۔۔38 7-14- نتیجه کلام مامور من اللہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تصنیف براہین احمدیہ سے آپ کی زمانہ طالب علمی کی خواب سے فی الواقعہ :۔1 آنحضرت صلعم بڑے جاہ و جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے۔حضرت مرزا صاحب آنحضرت صلی ا یلم کی شان میں فرماتے ہیں: پہلوان حضرت جلیل رب یکطرف حیران از و شاہان وقت بر میان بسته ز شوکت خنجری شسته در 2 آنحضرت صلعم کی کرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہو گئی زور ہر متکبری جیسے آفتاب کی کر نہیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکتی چلی جاتی ہے اور 4 دین اسلام کی تازگی اور ترقی کے دن آگئے ہیں۔ایک مدت سے کفر تھا اسلام کو کھا تارہا اب یقیں سمجھو کہ آئے اسلام کے کفر کو کھانے کے دن اور براہین احمدیہ کے وجود سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے حق میں درج بالا پیش گوئی پوری ہو گئی۔جسے نمونہ موازنہ کلام حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور مولوی چراغ علی صاحب میں بھی پیش کیا گیا ہے۔جس سے مولوی عبد الحق صاحب کے بد دیانتی سے اخذ کردہ نتائج درباره علمی مدد بر این احمد یہ غلط ثابت ہوتے ہیں۔نواب صدیق حسن خان کو لوگوں نے مجدد کا نام دیا اور مولوی عبد الحق صاحب نے سرسید کو عام وقت کا نام دیا لیکن خدا تعالیٰ کی نظر میں جو مجد داور امام وقت تھا اُس کی طرف اتقیاء امت کی نظریوں اُٹھی جو الامام المہدی اور مسیح موعود تھا۔سب مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیج بنو خدا کے لئے آخر میں ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا منظوم فارسی کلام جو آنحضرت صلعم کی محبت سے بھر اہو اکلام ہے درج کرتے ہیں وھو ہزا:۔