براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 169 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 169

169 براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام ضروریات عالم میں سے کبھی کسی چیز کا مفقود نہ ہو نا صریح اس بات پر نشان ہے کہ ان سب کے لئے ایک میمی اور محافظ اور قیوم ہے جو جامع صفات کا ملہ یعنی مدبر اور حکیم اور رحمان اور رحیم اور اپنی ذات میں ازلی ابدی اور ہر یک نقصان سے پاک ہے جس پر کبھی موت اور فناطاری نہیں ہوتی بلکہ اونگھ اور نیند سے بھی جو فی الجملہ موت سے مشابہ ہے پاک ہے سو وہی ذات جامع صفات کا ملہ ہے جس نے اس عالم امکانی کو برعایت کمال حکمت و موزونیت وجود عطا کی اور ہستی کو نیستی پر ترجیح بخشی اور وہی بوجہ اپنی کمالیت اور خالقیت اور ربوبیت اور قیومیت کے مستحق عبادت ہے۔یہاں تک تو ترجمہ اس آیت کا ہوا الله لا إله إلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَ لَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ۔اب بنظر انصاف دیکھنا چاہئے کہ کس بلاغت اور لطافت اور متانت اور حکمت سے اس آیت میں وجود صانع عالم پر دلیل بیان فرمائی ہے اور کس قدر تھوڑے لفظوں میں معانی کثیرہ اور لطائف حکمیہ کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے اور مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ کے لئے ایسی محکم دلیل سے وجو د ایک خالق کامل الصفات کا ثابت کر دکھایا ہے جس کے کامل اور محیط بیان کے برابر کسی حکیم نے آج تک کوئی تقریر بیان نہیں کی بلکہ حکماء نا قص الفہم نے ارواح اور اجسام کو حادث بھی نہیں سمجھا اور اس رازِ دقیق سے بے خبر رہے کہ حیات حقیقی اور ہستی حقیقی اور قیام حقیقی صرف خدا ہی کے لئے مسلم ہے یہ عمیق معرفت اسی آیت سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں خدا نے فرمایا کہ حقیقی طور پر زندگی اور بقاء زندگی صرف اللہ کے لئے حاصل ہے جو جامع صفات کاملہ ہے اس کے بغیر کسی دوسری چیز کو وجود حقیقی اور قیام حقیقی حاصل نہیں اور اسی بات کو صانع عالم کی ضرورت کے لئے دلیل ٹھہرایا اور فرمایا لَه مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیام حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علت موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا۔اور ضرور ہے کہ ایسی علت موجبہ جامع صفات کا ملہ اور مدبر بالا رادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو۔سو وہی اللہ ہے۔کیونکہ اللہ بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو مستجمع کمالات تامہ ہے اس وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کاملہ کا موصوف ٹھہر آیا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ رب العالمین ہے رحمان ہے رحیم ہے مدبر بالا رادہ ہے حکیم ہے۔عالم الغیب ہے قادر مطلق ہے ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔سو یہ قرآنِ شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کا ملہ کا نام ہے اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القَيُّومُ یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم ذات جامع الکمالات ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجو د اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہیں چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علت موجبہ ہو سکتی ہیں بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سر اسر حکمت سے بھر اہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدبر بالا رادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہو۔سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا