براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 154
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 154 مولوی چراغ علی صاحب جو براہین احمدیہ کی اشاعت میں مالی اعانت کرنے والوں میں سے تھے اُن تک براہین احمد یہ یقیناً پہنچی ہوگی لیکن مولوی چراغ علی صاحب اس نعمت عظمی سے محروم رہے اور مستشرقین اور سرسید وغیرہ کی ہم نوائی میں اپنے پیچھے جو تصانیف چھوڑیں وہ مستشرقین اور سرسید کو تو ضرور خوش کرتی ہوں گی لیکن اُن سے اسلام کے دفاع کے ادعاء کے باوصف اسلام دوستی کی بجائے اسلام دشمنی کی بُو آتی ہے جو زیر نظر مضمون سے عیاں ہے۔جنہیں “ مجوب اور قالب بے جان مسلمان ” ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔کیونکہ موصوف مولوی چراغ علی صاحب:۔۔الہامات حضرت احدیت کو محال خیال کرتے ہیں اور از قبیل اوہام اور وساوس قرار دیتے ہیں جنہوں نے انسان کی ترقیات کا نہایت تنگ اور منقبض دائرہ بنارکھا ہے کہ جو صرف عقلی انکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہو تا ہے۔۔” مولوی چراغ علی صاحب کو پادری عماد الدین کے مقابلہ میں قرآن کریم کو کلام الہی ثابت کرنا چاہیے تھا لیکن مولوی صاحب موصوف وحی و الہام کو اوہام بلکہ تصورات نافرجام قرار دیتے ہیں اور کہیں کہیں اس کے بر عکس بھی لکھ دیتے ہیں ! ڈاکٹر سید عبد اللہ ، مولوی چراغ علی صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:۔۔مولوی چراغ علی کو سید صاحب ( سرسید - ناقل) سے جو اتفاق رائے تھا وہ شاید کسی اور کو نہ تھا۔مولوی چراغ علی کا موضوع تحقیق بھی تقریباو ہی تھا۔جس پر سید صاحب نے اپنا سارازور قلم صرف کیا۔۔۔92 اور سر سید کے مکالمہ الہی کے بارے میں کیا خیالات تھے ؟ اور یہی خیالات مولوی چراغ علی کے بھی ہیں۔ان پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا صاحب ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں: “ مجھے آپ کے کلمات سے بو آتی ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں کہ آپ اس امت کو مرتبہ مکالمات الہیہ سے تہید ست خیال کرتے ہیں بلکہ وو آپ کسی نبی کیلئے بھی یہ مرتبہ تجویز نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا زندہ اور خدا کی قدرتوں سے بھر اہو اکلام اُس پر کبھی نازل ہو اہو " 23 اسی طرح مولوی چراغ صاحب نے بھی حضرت موسیٰ کی مکالمت الہی کی بابت لکھا کہ ثابت ہو سکے تو ممکن ہے ”یعنی ابھی تک اُن پر اس کا ثابت ہونا ہی نہیں کھلا اور اگر کھل بھی جائے تو پھر بھی ممکن ہے کا تحفظ بر قرار ہے۔حضرت مرزا صاحب نے کیا ہی حسب حال سرسید کے بارے میں تحریر فرمایا تھا جو مولوی چراغ علی پر بھی صادق آتا ہے یعنی: میں متعجب ہوں کہ آپ نے کس سے اور کہاں سے سن لیا اور کیونکر سمجھ لیا کہ جو باتیں اس زمانہ کے فلسفہ اور سائنس نے پیدا کی ہیں وہ اسلام پر غالب ہیں۔حضرت خوب یا درکھو کہ اس فلسفہ کے پاس تو صرف عقلی استدلال کا ایک ادھورا سا ہتھیار ہے اور اسلام کے پاس یہ بھی کامل طور پر اور دوسرے کئی آسمانی ہتھیار ہیں۔پھر اسلام کو اس کے حملہ سے کیا خوف۔پھر نہ معلوم آپ اس فلسفہ سے کیوں ڈرتے ہیں اور کیوں اس کے قدموں کے نیچے گرے جاتے ہیں اور کیوں آیات قرآنی کو تاویلات کے شکنجہ پر چڑھارہے ہیں۔افسوس کہ جن باتوں میں سے ایک بات کو بھی مانا اس امر کو مستلزم ہے کہ اسلام کے سارے عقائد سے انکار کیا جائے ان باتوں کا ایک ذخیرہ کثیرہ آپ نے مان لیا ہے اور طر فہ یہ کہ باوجو دانکار معجزات انکار ملائک انکار اخبار غیبیہ