براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 153 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 153

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 153 اس کے بعد سورۃ نجم کی 2 تا 11 آیات بلا استدلال درج کر دیں ہیں۔آغاز گفتگو پیر انمبر 13 میں مولوی چراغ علی صاحب نے آنحضرت علی علیم کی سچائی درج کر دی اور درمیان میں اسے دھو کہ دو ہم قرار دیا بلکہ تصورات نافرجام اور از قبیل اضغاث و احلام لکھا لیکن آخر میں دھو کہ اور وہم سے انکار کر دیا اور آیات قرآنیہ کا بلا استدلال و تبصرہ اندراج کر کے آگے پیرے نمبر 14 پر جا نکلے اور اسے پادری عماد الدین کا جواب قرار دیا جاتا ہے۔جبکہ پادری صاحب صرف بائبل ہی کو خدا کا کلام 20 قرار دیتے ہیں ! نہایت افسوس ہے مولوی چراغ علی صاحب ایسے شخص کی نسبت جن کے درج بالا خیالات ہیں۔ان کو مولوی عبد الحق صاحب دھو کہ دہی سے حضرت مرزا صاحب کے براہین احمدیہ میں مدد دینے والا لکھتے ہیں ! ہم ان باتوں کی تردید یہاں درج کریں گے لیکن اس اندراج سے پیشتر براہین احمدیہ میں سے ہی مولوی چراغ علی صاحب ایسے اسمی و رسمی موافقین کے بارے میں جو بظاہر مسلمان ہیں اور ایسے خیالات رکھتے ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی یہ تحریر درج کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں:۔۔یہ احقر ہر یک طالب حق کی تسلی کرانے کو طیار ہے اور نہ صرف مخالفین کو بلکہ اسمی اور رسمی موافقین کو بھی کہ جو بظاہر مسلمان ہیں مگر محجوب مسلمان اور قالب بے جان ہیں جن کو اس پر ظلمت زمانہ میں آیات سماویہ پر یقین نہیں رہا اور الہامات حضرت احدیت کو محال خیال کرتے ہیں اور از قبیل اوہام اور وساوس قرار دیتے ہیں جنہوں نے انسان کی ترقیات کانہایت تنگ اور منقبض دائرہ بنارکھا ہے کہ جو صرف عقلی اٹکلوں اور قیاسی ڈھکوسلوں پر ختم ہوتا ہے اور دوسری طرف خدائے تعالیٰ کو بھی نہایت درجہ کا کمزور اور ضعیف سا خیال کر رہے ہیں۔سو یہ عاجزان سب صاحبوں کی خدمت میں بادب تمام عرض کرتا ہے کہ اگر اب تک تاثیرات قرآنی سے انکار ہے اور اپنے جہل قدیم پر اصرار ہے تو اب نہایت نیک موقعہ ہے کہ یہ احقر خادمین اپنے ذاتی تجارب سے ہر یک منکر کی پوری پوری اطمینان کر سکتا ہے اس لئے مناسب ہے کہ طالب حق بن کر اس احقر کی طرف رجوع کریں اور جو جو خواص کلام الہی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اس کو بچشم خود دیکھ لیں اور تاریکی اور ظلمت میں سے نکل کر نور حقیقی میں داخل ہو جائیں۔اب تک تو یہ عاجز زندہ ہے مگر وجود خا کی کی کیا بنیاد اور جسم فانی کا کیا اعتماد۔پس مناسب ہے کہ اس عام اعلان کو سنتے ہی احقاق حق اور ابطال باطل کی طرف توجہ کریں۔تا اگر دعویٰ اس احقر کا بہ پایہ ثبوت نہ پہنچ سکے تو منکر اور رو گردان رہنے کے لئے ایک وجہ موجہ پیدا ہو جائے۔لیکن اگر اس عاجز کے قول کی صداقت جیسا کہ چاہئے یہ پایہ ثبوت پہنچ جائے تو خدا سے ڈر کر اپنے باطل خیالات سے باز آئیں اور طریقہ حقہ اسلام پر قدم جمادیں تا اس جہان میں ذلت اور رسوائی سے اور دوسرے جہان میں عذاب اور عقوبت سے نجات پاویں۔سو دیکھو اے بھائیو اے عزیز و اے فلاسفر و اے پنڈ تو اے پادریو اے آر یو اے نیچر یو اے براہم دھرم والو کہ میں اس وقت صاف صاف اور علانیہ کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو شک ہو اور خاصہ مذکورہ بالا کے ماننے میں کچھ تامل ہو تو وہ بلا توقف اس عاجز کی طرف رجوع کریں اور صبوری اور صدق دلی سے کچھ عرصہ تک صحبت میں رہ کر بیانات مذکورہ بالا کی حقیت کو بچشم خود دیکھ لے ایسا نہ ہو کہ اس ناچیز کے گذرنے کے بعد کوئی نامنصف کہے کہ کب مجھ کو کھول کر کہا گیا کہ تا میں اس جستجو میں پڑتا۔کب کسی نے اپنی ذمہ داری سے دعوی کیا تا میں ایسے دعویٰ کا ثبوت اس سے مانگتا۔"21