براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 138
براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام (یعنی) جو خیالات ظاہر کرتا ہے۔۔۔وہ خدا کے الفاظ سمجھے جاتے ہیں " 55 وو 138 ملاحظہ ہو مولوی چراغ علی صاحب کس طرح وحی و الہام کو خواب ” سے قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ ” قرار دینے کے خیال پر منتقل ہو الله جاتے ہیں۔لیکن انبیائے کرام کے حوالہ سے جو باتیں آنحضرت صلی للہ یکم اور اسلام میں ثابت ہیں وہ “ صحیح بخاری ” کی حدیث نمبر 3320 تا 77 3 3 ( باب 24) زیر عنوان “ علامات النبوۃ فی الاسلام میں مذکور ہیں وہ درج ذیل ہیں: 1۔رؤیا صادقہ ( جسے مولوی چراغ علی صاحب نے رویاء اور خواب درج کیا ہے) 2 مکاشفات 3 وحی و القاء۔4 مكالمه البيه 5 ملائکتہ اللہ کا مشاہدہ 6 بشارت و انذار پر 7 استجابت دعا۔8 ایفاضه و استفاضه بیماروں کی شفایابی مشتمل خبریں 10۔دعا و توجہ سے کھانے پینے کی اشیاء اور پھلوں میں برکت 11۔نظر ثاق 56 یہاں پر مولوی چراغ علی صاحب کے لفظ رویاء کو خواب پر محمول کرنے کے خیال کی وضاحت کرنی ضروری معلوم ہوتی ہے۔اس سلسلے میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں: اصل بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں الگ الگ محاورات رائج ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ایسے نظاروں کے لئے رویاء کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔جس کے معنی دیکھنے کے ہیں۔گو محاورہ میں ایسے نظارہ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو نیند کی حالت میں دیکھا جائے۔لیکن فارسی نے اس کے لئے خواب کا لفظ تجویز کیا ہے جس کے معنی نیند کے ہیں۔یہ بھی ایک فرق ہے جو عربی کی فضیلت پر دلالت کرتا ہے۔قرآن کریم نے ہر جگہ رؤیا کا لفظ ہی خواب کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔جس میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ در حقیقت وہی حالت اصل بیداری کی ہوتی ہے جس میں انسان خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو گو ظاہری طور پر اُس پر نیند یار بودگی کی کیفیت طاری ہو۔لیکن ایرانی لوگ چونکہ ماہر نہیں تھے انہوں نے خواب کا لفظ ایجاد کر لیا حالانکہ خواب کے معنے محض نیند کے ہیں۔پس رسول کریم صلی الم نے اگر کسی جگہ یہ فرمایا ہے کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا اور دوسری جگہ آپ نے صرف اتنا فرمایا ہے کہ میں نے ایسا نظارہ دیکھا تو اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ ذکر کیا کہ میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج کو سجدہ کرتے دیکھا ہے تو اس میں خواب کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا مگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس نظارہ کے متعلق رویاء کا لفظ استعمال کر دیا جو محاورہ میں نیند کی حالت میں