براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 118
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پا کر خاموش رہتے بلا شبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہو چکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمی اور ناخواندہ کا کام نہیں اور نہ دس میں آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے آعانه عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ 17 کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کر چکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ 18 یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ 19" اس کیونکہ " کے جواب کو ہم حقانیت فرقان مجید کے عنوان کے تحت نقل کریں گے۔ڈاکٹر منور حسین لیکچر ر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اپنی کتاب “مولوی چراغ علی کی علمی خدمات " میں مولوی چراغ علی کی چند غیر مطبوعہ تصانیف کے بارے میں ایک مقام پر لکھتے ہیں: 118 “ اپنی کتاب ”تعلیقات میں پروفیسر رام چندر جی کی کتاب ”اعجاز قرآن پر ریویو لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔معلوم نہیں یہ ارادے عمل کا جامہ بھی پہن سکے یا نہیں 20 اس بارے میں مولوی چراغ علی لکھتے ہیں: میں نے اس بحث کو رسالہ اعجاز قرآن مؤلفہ پروفیسر رامچندر مسیحی پر اپنی ریویو لکھنے کے لئے مخصوص کیا ہے مگر یہاں بھی مناسب مقام سے چند امور ذکر کرتے ہیں۔21 ( یہاں یادر ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب اعجاز قرآن پر کیا لکھتے ! موصوف تو قرآنی تعلیمات کو " اٹکل پچو" قرار دیتے تھے۔ملاحظہ ہو ا عظم الکلام) یہ ریویو تو اب تک کی تحقیق سے سامنے نہیں آیا البتہ مذکور تصنیف میں جن چند امور کا ذکر ”مولوی چراغ علی صاحب نے کیا ہے اُن کو ہی موصوف کا موقف مانتے ہوئے انہیں ذیل میں خلاصہ درج کرتے ہیں ، جو اس بات سے متعلق ہیں کہ “ حضرت محمد امی تھے اور عیسوی مذہب سے (نہ) استفاضہ اور استمطار کیا ( تھا)۔" 22 ان امور کو پادری عماد الدین صاحب نے “ تعلیم محمدی ” میں یوں لکھا: انہوں نے ( یعنی حضرت محمدصلی ) خدا کی کلام سے بعض عمدہ باتیں بھی نصرانی غلاموں کے وسیلہ سے معلوم کر کے قرآن میں بولی ہیں " 23 لیکن مولوی چراغ علی صاحب نے اس بات کو میزان الحق پادری فنڈر، ڈاکٹر ویل کی سیرت محمدی، واشنگٹن ارونگ، ڈاکٹر اسپر نگر، پروفیسر رامچندر، ریورنڈ راڈویل کے حوالہ سے لکھا ہے۔24 اگر چہ موصوف جواب پادری عماد الدین کا دے رہے ہیں ! مولوی چراغ علی صاحب نے اس اعتراض کے جواب میں تعلیقات " کے پیرانمبر 15 میں 10 دلائل دیئے ہیں جن کو خلاصہ درج کیا جاتا ہے: