براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 91
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 91 کتابوں کو بھی مقدس مقدس کرکے پکارتے ہیں وہ نعوذ باللہ بقول ان کے ایسے ہی تھے اور کمالات قدسیہ سے جو مستلزم عصمت و پاک دلی ہیں محروم تھے۔عیسائیوں کی عقل اور خداشناسی پر بھی ہزار آفرین۔کیا اچھا نور وحی کے نازل ہونے کا فلسفہ بیان کیا مگر ایسے فلسفہ کے تابع ہونے والے اور اس کو پسند کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سخت ظلمت اور کور باطنی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔مگر ان کا کیا علاج جن کو عقل سے کچھ بھی سروکار نہیں اور جو کہ روشنی سے بغض اور اندھیرے سے پیار کرتے ہیں اور چمگادڑ کی طرح رات میں ان کی آنکھیں خوب کھلتی ہیں لیکن روز روشن میں وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔"38 مولوی چراغ علی اور ان کے مترجم و تبصرہ نگار جو موصوف کے انتہائی بد عقائد کو “ حسب مذاق عیسائیاں بطور تنزل ” کی حاشیہ آرائی میں لیٹتے ہیں اور ان کے بعد میں آنے والے بشمول علامہ اقبال، ابو الحسن ندوی و غیر ہم براہین احمدیہ کے بارے میں اتہامات لگانے سے باز نہیں آتے انہیں براہین کی ان عبارتوں پر ایک نظر ڈال کر بہ نظر انصاف مولوی چراغ علی کی مزعومہ مدد کے ادعاء سے رک جانا چاہئے بہر کیف اس شق کے آخر پر ہم سورۃ النور آیت نمبر 36 کی تفسیر کا خلاصہ حضرت مرزا صاحب کے ہی الفاظ میں پیش کر کے ختم کرتے ہیں۔آیت شریفہ “ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہ۔۔الخ “خدا تعالیٰ نے پیغمبر علیہ السلام کے دل کو شیشہ مصفی سے تشبیہ دی جس میں کسی نوع کی کدورت نہیں۔یہ نور قلب ہے۔پھر آنحضرت کے فہم و ادراک و عقل سلیم اور جمیع اخلاق فاضلہ جبلی و فطرتی کو ایک لطیف تیل سے تشبیہ دی جس میں بہت سی چمک ہے اور جو ذریعہ روشنی چراغ ہے یہ نور عقل ہے کیونکہ منبع و منشاء جمیع لطائف اندرونی کا قوت عقلیہ ہے۔پھر ان تمام نوروں پر ایک نور آسمانی کا جو وحی ہے۔نازل ہونا بیان فرمایا۔یہ نور وحی ہے۔اور انوار ثلاثہ مل کر لوگوں کی ہدایت کا موجب ٹھہرے۔یہی حقانی اصول ہے جو وحی کے بارہ میں قدوس قدیم کی طرف سے قانون قدیم ہے اور اس کی ذات پاک کے مناسب۔پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ جب تک نور قلب و نور عقل کسی انسان میں کامل درجہ پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نور وحی ہرگز نہیں پاتا اور پہلے اس سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کمال عقل اور کمال نورانیت قلب صرف بعض افرادِ بشریہ میں ہوتا ہے گل میں نہیں ہوتا۔اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افرادِ کاملہ کو ملتی ہے نہ ہر یک فرد بشر کو 39 مولوی چراغ علی “ تحقیق الجہاد میں لکھتے ہیں: وحی و الهام The Revelation is a natural product of human faculties۔۔۔۔۔' ترجمہ : “ وحی و الہام قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ ہیں۔" ایک طرف تو مولوی چراغ علی دفاع اسلام میں دلائل لاتے ہیں اور ان کے مترجم و مبصر اس پر بلا سوچے سمجھے داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں (اسے ایک ایسے شخص کی طرف سے شاباش قرار دیا جا سکتا ہے جسے کچھ واقفیت نہ ہو ) لیکن مولوی چراغ علی