براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 85
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 85 حقانیت دین اسلام پر اس قدر عبور ہو جاتا ہے کہ سالہا سال کی محنت اور صدہا کتب کے مطالعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔23 اس“مذاق عیسائیان دلیل کی خاطر بطور تنزل عصمت انبیاء سے انکار کو مولوی عبد الحق لکھتے ہیں یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ آئندہ اسلام پر جو کچھ کہا جائے گاوہ زیادہ تر مرحوم کی خوشہ چینی ہوگی۔24 کیا یہی دفاع اسلام ہے کہ انبیاء کی پیش گوئیوں، معجزات، عصمت انبیاء اور وحی الہام سے انکار کر دیا جائے ؟ الامان والحفیظ (نوٹ: او پر جو حوالے تحقیق الجہاد مترجمہ خواجہ غلام الحسنین کے دیئے گئے ہیں وہ مکتبہ دانش مزنگ لاہور کی مطبوعہ ہے اور اس کا انگریزی متن (Karim sons, Jamshed Road, 3 Karachi 5 Pakistan) کا شائع کر دہ ہے۔معجزات مولوی چراغ علی لکھتے ہیں۔۔فوق العادت معجزات کا دکھانا بھی پیغمبر کا کام نہیں ہے۔" اس کے بر عکس حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال و گمان سے باہر اور امید سے بڑھ کر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کی عجز اور مغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اور درخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور پر سے جو اس کی صفات وحدانیت و تقدس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یا کار سازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔" 25 معجزات کو مولوی چراغ علی صاحب تو پیغبر کے کام میں شامل نہیں کرتے لیکن حضرت مرزا صاحب، معجزہ کو۔خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں جو • خدا کے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے ، اسی طرح مخالفین کی عجز اور مغلوبیت جتلانے کے لئے۔خدا تعالیٰ اپنے ارادہ خاص سے یا رسول کی دعا اور درخواست سے۔خدا تعالیٰ ظاہر فرماتا ہے خداتعالی مگر کس طور سے کہ: جو خدا تعالی کے تقدس و کمال کے منافی و مغائر نہ ہو کسی دوسرے کی وکالت یا کار سازی کا اس میں دخل نہ ہو کیا مولوی چراغ علی کے نظریات انبیاء کی عزت و صداقت کو ظاہر کرتے ہیں ؟ ہر گز نہیں بلکہ مخالفین انبیاء کا ساتھ دیتے ہیں۔مولوی چراغ علی کو بڑے نرم الفاظ میں انبیاء کا نادان دوست ہی کہا جاسکتا ہے ! حضرت مرزا صاحب معجزات کو کوئی قدیم قصہ نہیں بتاتے بلکہ ایک جاری و ساری نشان بنادیتے ہیں۔جیسا کہ فرمایا: “جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے وہ حقیقت میں اس متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ امت ہے۔۔۔جو کچھ انوار و آثار متابعت کامل کے مترتب ہوں گے وہ حقیقت میں اس نبی متبوع کے فیوض ہیں۔۔۔سو اس جہت سے اگر ولی سے کوئی امر خارق عادت ظاہر ہو تو