بیت بازی

by Other Authors

Page 819 of 871

بیت بازی — Page 819

819 "1 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 11 گھرے ہیں جو بادل؛ یہ پھٹ جائیں سارے ہوائیں تو رحمت کی اپنی چلادے ا گل کھلے ہیں؛ بہار آئی ہے کاش! ایسے میں وہ بھی آجائے ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ کلام طاهر گھر آئیں گھنگھور گھٹائیں جھوم اٹھیں مخمور ہوائیں جھک گیا ابرِ رحمت باری؛ آب حیات کو برسانے گھبرا کے درد ہجر سے اے مہمانِ عشق جس من میں آکے اُترے ہو؛ وہ من اداس ہے گلشن میں پھول، باغوں میں پھل؛ آپ کیلئے جھیلوں پہ کھل رہے ہیں کنول؛ آ۔ہے میرے ہی گیتوں کی بازگشت نغمہ سرا ہیں دشت و جبل آپ رگر ہیں تمام کھل گئیں مجز آرزوئے وصل رکھ چھوڑا ہے اس عقدے کا حل ؛ آپ کیلئے گل بوٹوں کلیوں پتوں سے کانٹوں سے خوشبو آنے لگی اک عنبر بار تصور نے یادوں کا چمن مہکایا ہے گو آرہی بہلایا دے کر؛ گل رنگ شفق کے پیراہن میں؛ اک یاد کو جھولے دے قوس قزح کی پینگوں یگلے نے ول گشته اسیران کو مولا کی خاطر مدت سے فقیر ایک دعا مانگ رہا ہے گم گھٹا کرم کی ہجومِ بلا ޏ پر ہے اُٹھی کرامت اک دل درد آشنا سے اُٹھی ہے ہے گو قول کے کچے ہو؛ ہمیشہ سے مگر ان اوصاف حمیدہ میں تو کچے نہیں لگتے و کلام محمود گمراہ ہوئے ہو؟ باز آؤ گناہ گاروں کے دَردِ دل کی؛ یہی ہے کیا عقل تمہاری کو ہوا ہے خضر ره طریقت؛ بس اک قرآن ہی روا ہے یہی ہے ساغر، جو حق نما ہے گیا اسلام وقت خواں ہے ہوئی پیدا بہار جاوداں ہے گریبانوں میں اپنے منہ تو ڈالو ذرا سوچو! اگر کچھ بھی حیا ہے گو مجھے مدت اصرار ہے منه گالیاں تکیہ کلام ان کا دکھانے انھیں انکار ہے عدو خوش خصال ہیں ایسے ۲۶ ۲۷ ۲۸