بیت بازی — Page 803
803 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ عالم رنگ و بُو کے گل بوٹے خواب ٹھہرے؛ مہرے توہمات نے عالم حیرتی کے میں کبھی بت مظهر صفات بنے مندر عالم بے ثبات میں شب و روز آج کی جیت؛ گل کی مات بنے عیاری و جلادی و سفا کی میں پکے تم قلب و ذہن دونوں کی ناپاکی میں پکے کلام محمود عطا کر جاه و عزت دو جہاں میں ملے عظمت زمین و آسماں کی عشق کہتا ہے کہ محمود! لپٹ جا اُٹھ کر رُعب کہتا ہے؛ پرے ہٹ ، بڑی لاچاری ہے ہے ہے علاج رنج وغم ہائے دل رنجور ہوتی طبیعت کتنی ہی افسردہ ہو؛ مسرور ہوتی جلوه مگن فطرت وحشی پہ میری دیکھ لینا؛ کہ ابھی رام ہوئی جاتی ہے عشق ہے عشق و بے کاری؛ اکٹھے ہو نہیں سکتے کبھی عرصة سعي محتاں تا ابد ممدود ہے ۱۷ علامت گفر کی ہے تنگی نفس مگر کھلتے اسلام ނ ہیں سینے ۱۸ عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی راز وصال یار بتایا کرے کوئی ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ کردیا عشق نے کر دیا خراب مجھے وہ مجھے ورنہ کہتے تھے لاجواب عزم بھی اُن کا ہاتھ بھی اُن کے کریں کام دیں ثواب مجھے عشق صادق میں ترا رونا ہے اک آب حیات بے غرض رونا تیرا؛ اک بے پنہ سیلاب ہے عزیزو! دل رہیں آباد؛ بس اس کی محبت سے بنو زاہد ؛ کرو اُلفت نہ ہرگز مال و دولت سے انگار بھی خلیل گلزار ہو گئے قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے عشق خُدا نے خول چڑھایا تھا اس کے گرد کو عبادت میں مزا آتا عاشق تو وہ ہے؛ جو کہ کہے اور سنے تری دنیا سے آنکھ موڑ کے؛ مرضی کرے تیری عابد ہے