بیت بازی — Page 797
797 ۹ Λ در ثمین شانِ حق؛ تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی؛ اس ذات کو پایا ہم نے شکوہ کی کچھ نہیں جا؛ یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سبــــحـــــان مــــن یـــرانـــی شریروں پر پڑے اُن کے شرارے نہ اُن سے رُک سکے مقصد ہمارے نہیں مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہے ہے شمار فضل اور رحمت شرم وحیا نہیں ہے؛ آنکھوں میں اُن کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے؛ اب انتہا یہی ہے ٹھکر خدائے رحماں جس نے دیا ہے قرآن غنچے تھے سارے پہلے؛ آب گل کھلا یہی ہے شادابی و لطافت اس دیں کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں، پھولا پھلا یہی ہے شوخی و کمر دیو لعیں کا شعار ہے ودر عدن آدم کی نسل وہ ہے؛ جو وہ خاکسار ہے شکر کرنے کی بھی طاقت نہیں پاتا جس دم کیا ہی نادم؛ دل مجبور نظر آتا ہے کلام طاهر شام غم دل پر شفق رنگ دکھی زخموں کے تم نے جو پھول کھلائے؟ مجھے پیارے ہیں وہی شفا پا جاتے ہیں شرارت اور بدی کلام محمود وہ رفته رفته کہ آخر ہر مرض کی؛ اک دوا ہے باز آؤ دلوں میں کچھ بھی گر خوف خدا ہے شیفا ہوں ہر مریض رُوح کی ہم دوا بن جائیں؛ دَردِ لا دوا کی شکائتیں تھیں ہزاروں بھری پڑی دل میں رہی نہ ایک بھی پر؛ اُن کے رُوبرُو باقی شاید اس کے دل میں آیا؟ میری جانب سے مخبار آسماں چاروں طرف سے؛ کیوں مخبار آلود ہے نعمت نہ پاتے تو اس دُنیا سے ہم اندھے ہی جاتے شر کولاک شارخ گل پر بزار بیٹھی تھی کانپتی؟ بے قرار بیٹھی تھی شاید کہ پھر اُمید کی پیدا ہوئی جھلک نتھنوں تک آگے، روح ہماری؛ کچل گئی 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 1 ۱۸ 1۔