بیت بازی — Page 795
795 ۵۳ سلسلے ہر جگہ کے جاری ہیں کیسے شہروں اور گاؤں میں اسکول بکثرت کھولے ۵۴ سنو؛ اے دشمنان دین احمد ! نتیجه بد زبانی کا ؛ برا ہے ۵۶ ۵۷ سو ساری باتیں ہوئی ہیں پوری؛ دلوں میں اب بھی رہے جو ڈوری؛ نہیں کوئی بھی رہی ادھوری تو اس میں اپنا قصور کیا ہے سر بنتا ہے وہ ؛ ہر ناتواں کی وہی کرتا ہے؛ اس کی پاسبانی سچاند ہب بھی ہے؛ پر ساتھ دلائل ہی نہیں ایسی باتیں؛ کسی احمق کو سُنائے کوئی ۵۸ ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شب ظلمت میں ایک آنسو ہیں؛ لگی دل کی بجھانے والے سونگھی نہ ہوئے خوش؛ نہ ہوئی دید گل نصیب افسوس! دن بہار کے یونہی گزر گئے سب لوگ کیا سبب ہے؛ کہ بے کیف ہو گئے ساقی کدھر کو چل دیئے؛ میخانے کیا ہوئے سعی پیہم میری؛ ناکام ہوئی جاتی صبح آئی ہی نہیں؛ شام ہوئی جاتی سزائے عشق ہجر ہے؛ جزائے صبر وصل ہے میری سزا وہی تو ہے؛ میری جزا وہی تو ہے ۵۹ ۶۰ ۶۲ ہے ہے بھی یونہی مہمان نکلے سمجھتا تھا اِرادے ساتھ دیں گے مگر ۲۴ سمجھتا تھا کہ ہوں صید مصائب مگر تو سوچا سب ۶۵ ۶۶ ۶۷ احسان نکلے سوچتا کوئی نہیں فردوس کیوں مقصود ہے آرزو باقی ہے؛ لیکن مدعا مفقود ہے سمندر کی مچھلی ہوا کے پرندے گھریلو چرندے؛ بنوں کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہراک اپنے مطلب کی شے کھا رہا ہے سرمستی سے خالی ہے؟ دل عشق سے عاری ہے بیکار گئے اُن کے سب ساغر و پیمانے ۹ سوالاک سوا لاک تیرے میخانے کے سب کے خانے خالی ہیں پلائے گر نہ تو مجھ کو؟ تو پھر میں کیا کروں ساقی سالوں تک اپنا منہ نہ دکھایا کرے کوئی یوں تو نہ اپنے دل سے بھلا یا کرے کوئی کبھی دیکھے بھی ہیں؛ بندے خُدا کے ۶۸ 2۔ا سنانے والے افسانے ہما کے ۷۲ سجدة بارگہ بھی بوجھل ہے کیا کریں؛ وہ نڈھال ہیں ایسے ساری دنیا میں مشک پھینکیں گے میرے بھی کچھ غزال ہیں ایسے