بیت بازی — Page 781
781 دین خدا وہی ہے؛ جو دریائے نور ہے جو اس سے دُور ہے؛ وہ خدا سے بھی دُور ہے دوا دی، اور غذا دی؛ اور قبا دی فسبحان الذى اخرى الاعادي دل میں تمہارے؛ یار کی الفت نہیں رہی حالت تمہاری؛ جاذب نصرت نہیں رہی دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پر سبقت نہیں رہی دل بیمار کا درماں ہے طالبوں کا ہے یار خلوت دوستو! جاگو؛ کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے دنیا میں اس کا ثانی؛ کوئی نہیں ہے شربت پی لو تم اس کو یارو! آب بقا یہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا؛ تحقیر سنتے سنتے غم تو بہت ہیں دل میں؛ پر جاں گزا یہی ہے دنیا میں گرچہ ہوگی سو قسم کی برائی پاکوں کی ہتک کرنا؛ سب سے بُرا یہی ہے دلبر کی رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا اک باؤلا یہی ہے دے کر نجات دمکتی، پھر چھینتا ہے سب سے کیسا ہے وہ دیائو؛ جس کی عطاء یہی ہے دین خدا کے آگے؛ کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اترے؛ دل میں اُٹھا یہی ہے دیں کے عموں نے مارا؛ اب دل ہے پارہ پارہ ہے سہارا؛ ورنہ فنا یہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں؛ مجمل ہیں جیسی خواہیں خالی ہیں ان کی قابیں؛ خوانِ ھدی یہی ہے ہے دیں غار میں چھپا ہے؛ اک شور کفر کا دنیا میں عشق تیرا؛ باقی ہے سب اندھیرا دلبر کا دلبر کا اب تم دعائیں کرلو؛ غار حرا یہی ہے معشوق ہے تو میرا؛ عشق صفا یہی ہے درد آیا؛ حرف خودی مٹایا جب میں مرا، چلایا؛ جام بقا یہی ہے ہے دل کر کے پارہ پارہ؛ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم؛ عقل رسا یہی آلگے کشتی کنارے دعا دعا کرنا؛ عجب نعمت ہے پیارے! سے آلگے دنیا کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مرگئے غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے دیدار گر نہیں ہے؛ تو گفتار ہی سہی حسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲