بیت بازی

by Other Authors

Page 754 of 871

بیت بازی — Page 754

754 پردے جو تھے، ہٹائے؟ اندر کی رہ دکھائے دل یار سے ملائے؟ وہ آشنا یہی ہے 1۔۱۴ ۱۵ ۱۶ پیارو! روا ہرگز نہیں ہے خدا وہ ہے؛ جو ربّ العالمیں ہے درگاه باری پسند آتی ہے اس کو خاکساری تذلل پر یہ کلام؛ نور خدا کو دکھاتا ہے ہے ره اس کی طرف ؛ نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے رہو عقوبت ربّ العباد سے پھر اس سے سچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی اور خاص وجہ صفوت ملت ہی کیا رہی پس تم تو ایک بات کے کہنے سے مرگئے یہ کیسی عقل تھی کہ براہ خطر گئے پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے ان کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے عجیب غفلت رب قدیر ہے دیکھے ہے ایک کو؛ کہ وہ ایسا شریر ہے 19 پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی یا خود تمہاری چادر تقویٰ ہی پھٹ گئی 12 ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۲۱ پھر ودر عدن پایا جنہوں نے حسن ؛ وہ اس مئے سے مست ہیں ہر اک سے بے نیاز ہیں؛ صورت پہ ناز ہے پہنے ہے یہ ایمان کا اخلاق کا زیور یہ لعل یہ الماس و گہر تیرے حوالے ۲۲ پل مارنے کی دیر ہے حاجت روائی میں بس التفات قاضی حاجات چاہیئے ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ کلام طاهر پیغام آرہے ہیں؛ کہ مسکن اُداس ہے طائر کے بعد؛ اُس کا نشیمن اُداس ہے پیار کے پھول دل میں سجائے ہوئے؛ قافلے دُور دیسوں سے آئے ہوئے؟ نورِ ایماں کی شمعیں اٹھائے ہوئے غم زدہ اک بدلیس آشیاں کیلئے پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں؛ آرزوئیں مری آرزوئیں مری جو دعائیں کریں؛ اور کشادہ ترقی کی راہیں کریں رنگ لائیں میرے میہماں کیلئے پتھر کی لکیر ہے، یہ تقدیر ؛ مٹا دیکھو، گر ہمت ہے یا ظلم مٹے گا دھرتی سے ؛ یا دھرتی خود مٹ جائے گی