بیت بازی — Page 741
741 ۱۶۸ دشمن دیں! ترا رزق شیطاں نے تجھے صحراؤں میں؛ فقط تکذیب کے تھوہر کا پھل ہے اک 19 آجاتے ہو؛ کرتے ہو ملاقات شب وروز ۱۷۰ 121 ۱۷۲ ۱۷۶ 122 متلک میرا درد پالیں گے باغ سبز سلسلة ربط ہم صبح دکھایا ہے و مسا ہے کھلا ہے ہے اے تنگی زنداں کے ستائے ہوئے مہماں واچشم ہے، دل باز؛ درسینہ امر ہوئی ہے وہ تجھ سے محمد عربی ندائے عشق جو قول ملی سے اُٹھی آ کے دیکھو تو سہی بزم جہاں میں گل تک جو تمہارے ہوا کرتے تھے، تمہارے ہیں وہی ۱۷۳ اک شعلہ سا لرزاں ہے؛ سر گور تمنا اک غم جئے جاتا ہے؛ مزاروں کے سہارے ۱۷۴ آ بیٹھے میرے پاس؛ میرا دست تہی تھام مت چھوڑ کے جا درد کے ماروں کے سہارے ۱۷۵ اُن کی سرمدی قبور سے ؛ آج بھی یہی ندا اُٹھے کاش! تیری مٹی سے مدام ؛ جو اُٹھے وہ پارسا اُٹھے اپنے دل میں بسا کے میرا غم؛ میرے دکھ کو لگا کے سینے سے؛ کیا مرا ہر ستم اُٹھا لیں گے آپ نے زندگی گزارنی ہے؛ آپ سے مانگتے ہیں مرہم دل؛ سب کے ہاتھوں سے زخم کھائے ہوئے ۱۷۸ اتنا تو یاد ہے؛ کہ جہاں تھے، اداس تھے یہ کس کو ہوش ہے؛ کہ کہاں تھے، کہاں رہے آنکھوں نے راز سوزِ دروں کہہ دیا؛ مگر بزمِ طرب میں ہونٹ تبسم کناں رہے اپنی تو عمر روتے کٹی ہے؛ پر اس سے کیا جا میری جان! تیرا خدا پاسباں رہے ۱۸۱ احساس نامرادی دل فعلہ سا اُٹھا ہم جاں بلب پڑے رہے آتش بجاں رہے آخر سما کھلے، تو دیکھے چھٹ بھی گئے اندھیارے من مندر میں سورج بیٹھا؛ آس کا دیپ جلائے اس کے پاؤں دھو کے پئیں ساگر کی موجیں ، جب وہ جھینپا جھینپا، اس میں اُترے؛ شرمائے شرمائے آمیری موجوں سے لپٹ جا؛ ساگرتان اُڑائے یہ بھی تو سنسار کی ریت ہے؛ جو کھوئے ،سو پائے ۱۸۵ اب کسے ڈھونڈوں؛ تصور میں بسانے کیلئے چاند کوئی نہ رہا اپنا بنانے کیلئے اک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی جو نور کی ہر مشعل ظلمات یہ وار آئی ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۲ ۱۸۳ ۱۸۴ ΔΥ ساری دنیا کے بوجھ اٹھائے ہوئے