بیت بازی — Page 59
59 ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۰ باپ بے ہنر کو پوچھتا ہی کون ہے دنیا میں آج ہے کوئی تو تجھ میں جو ہر تو اگر محسود ہے کی سنت کو چھوڑا ؛ ہو گیا صید ہوا ابن آدم بارگہ سے اس لیے مطرود ہے بتاؤں کیا کہ شیطاں نے کہاں سے کہاں لے جا کے ہے؛ اس کو گرایا دیکھیں غیر کو کوئی ہو؟ کیا ہو بس اک تیری ہی ان کے دل میں جا ہو : بُرائی دشمنوں کی بھی نہ چاہیں ہمیشہ خیر ۲۰۳ بنیں ابلیس نافرماں کے قاتل لوائے احمدیت ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۶ ۲۱۷ پنائے شرک کو جڑ ؛ سے ہلا دیں ہی دیکھیں نگاہیں کے ہوں حامل نشان گفر و بدعت کو مٹا دیں بڑھیں اور ساتھ دنیا کو بڑھائیں پڑھیں؛ اور ایک عالم کو پڑھائیں بجلیوں کی چمک میں مجھ کو نظر جلوے اس کی ہنسی کے آتے تھے بحر فنا میں غوطہ لگانے کی دیر ہے منزل قریب تر ہے؛ وہ کچھ دُور ہی نہیں بھڑک اُٹھتی ہے پھر ، شمع جہاں کی روشنی یک دم عدم سے سوئے ہستی جب کوئی پروانہ آتا ہے باده عرفاں پلا دے؛ ہاں پلا دے آج گو چہرہ زیبا دکھا دے؛ ہاں دکھا دے آج تُو بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں؛ تیرے پاس آگے آگے چاند کی مانند؛ تو بھاگا نہ کر باغ سونا ہوا میرا جب فجر سبز و بار دار گیا با دل ریش و حال زار گیا اس کی درگہ میں بار بار گیا چھڑے ہوؤں کو جنت فردوس میں ملا بر صراط سے سہولت گزار دے بگاڑے کوئی اُن کیلئے جو دنیا سے وہ سات پشت کو اُس کی سنوار دیتے ہیں بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاک جدید تانا بانا ٹوٹنے والا ہے اب کفار کا بُتِ مغرب ہے ناز پر مائل اپنے بندوں کو بے نیازی بخش بے عمل و خطا شعار؛ بے گس و بے وقار تھا پر میری جان! یہ تو سوچ؛ رکن میں مِرا شمار تھا بخشش حق نے پا لیا مجھ کو کیا ہوا؟ میں اگر کھلا بنا ۲۱۸