بیت بازی

by Other Authors

Page 55 of 871

بیت بازی — Page 55

55 ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ١١٩ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ بے کس بے بس کیا دیکھ رہی ہے اے دیس اب چشم حیران آنے والے بتا! وطن کس حال میں ہیں یاران وطن بگولے بن کے اُڑ جانا؟ روش غول بیاباں کی ہمیں آب بقا پی کر امر ہو جانا آتا ہے بے آسراؤں کیلئے کوئی تو اشکبار ہو پیاس بجھے غریب کی؛ تشنہ کیوں کو کل پڑے باد سموم سے چمن دردوں دُکھوں سے لد گیا آو فقیر سے میرے اشک اُبل اُبل پڑے بن گئی بزم شش جہات میکده تجلیات دیر و حرم کو چھوڑ کر؛ رند نکل نکل پڑے بچے بھوکے گریاں ترساں دیپک کی کو لرزاں لرزاں کٹیا میں افلاس کے بھوت کا ناچا سایا ساری رات غلغلہ تلاطم عشق پیار کا عالم میں اک بپا کردو مهبط انوار قادیاں دیکھو وہی صدا ہے سُنو! جو سدا سے اُٹھی ہے بچشم کم تمہیں سمجھایا بس خدا کیلئے دکھاؤ نا؛ سرتسلیم کر کے کم اعجاز بھیگی ہوئی، بجھتی ہوئی، مٹتی ہوئی آواز اظہار تمنا وہ اِشاروں کے سہارے ۱۳۵ بن کے اپنا ہی لپٹ جاتا ہے روتے روتے غیر کا دکھ بھی جو سینے سے لگایا ہم نے باده عشق درمان اگر ہے کوئی مت ہمیں چھوڑ کے جا ساقی؛ کہ غم باقی ہیں بہار آئی ہے؛ دل وقف یار کر دیکھو مرد کو نذر جنونِ بہار کر دیکھو ۱۳۸ بس اب نہ دُور رکھو اپنے دل سے اہلِ وطن ہے تم سے پیار ہمیں؛ اعتبار کر دیکھو بدل سکو؛ تو بدل دو نظام شمس و قمر خلاف گردشِ لیل و نہار کر دیکھو بہنوں کی امنگوں کے دفینوں کی قسم ہے ماؤں کے سلگتے ہوئے سینوں کی قسم ہے ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۹ ۱۳۰ ہے ۱۳۱ ۱۳۲ بڑھے اُس کا غم تو قرار کھو دے؛ اُٹھیں وہ میرے غم کے خیال ہاتھ اپنے درم تو پھر بھی میرے لئے ہی دعا کرے بڑا شور ہے مرے شہر میں کسی اجنبی کے نزول کا وہ میری ہی جان نہ ہو کہیں ، کوئی جاکے کچھ تو پتہ کرے بھلا کیسے اپنے ہی عکس کو میں رفیق جان بنا سکوں کوئی اور ہوتو بتا تو دے کوئی ہے کہیں، تو صدا کرے ۱۳ بے شمار گھر جلا کے جب پہنچی شعلہ دن وہ اس کے گھر سرد پڑگئی؛ اور ہوگئی ڈھیر آپ اپنی راکھ پر