بیت بازی — Page 678
678 ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ اپنا چہرہ کہیں دکھلائے؟ وہ رب العزت مدتوں سے ہے؛ یہی دل میں تمنا ہم کو ایک تسمہ کی بھی حاجت ہو؛ تو مانگو مجھ سے ہے ہمیشہ سے یہ اُس یار کا ایما ہم کو ایک دم کیلئے بھی یاد سے کیوں تو اُترے اور محبوب کہاں تجھ سا ملے گا ہم کو آدمی کیا ہے؛ تواضع کی نہ عادت ہو جسے سخت لگتا بُرا؛ کبر کا پتلا ہم کو ہے ۲۵ أمر معروف کو تعویذ بناؤ جاں کا بے کسوں کیلئے ؟ تم عقدہ کشا ہو جاؤ ۲۶ ۲۷ ہر وقت تو راحت رساں ہو الہی تو ! ہمارا پاسباں ہو ہمیں دیدار رخ نگار کیوں ہو ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۹ 3 3 3 3 ۴۰ ۴۲ آنکھوں میں رہی نہ جب بصارت اسلام گھرا ہے دشمنوں میں مسلم کا نہ دل فگار کیوں ہو امن کے ساتھ رہو؛ فتنوں میں حصہ مت لو باعث فکر و پریشانی حکام نہ ہو اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمی سمجھو بعد میں تاکہ تمھیں شکوہ ایام نہ ہو اپنے الہام پہ نازاں نہ ہو؛ اے طفل سُلوک ! تیرے بہکانے کو آیا کہیں شیطان نہ ہو اس میں جو بھول گیا؛ دونوں جہانوں سے گیا کوچہ عشق میں؛ داخل کوئی انجان نہ ہو اے عدو! مگر ترے کیوں نہ ضرر پہنچائیں ہاں! اگر سر پہ میرے سایہ رحمان نہ ہو اُس کا در چھوڑ کے کیوں جاؤں ؛ کہاں جاؤں میں اور دنیا میں کوئی اس کی سی سرکار بھی ہو اپنی حالت پہ یونہی خرم و شادان نہ ہو سکوں؛ پیش رو آمد طوفان نہ ہو اپنے اعمال پہ خرا؛ ارے نادان! نہ ہو تو بھلا چیز ہے کیا! اُس کا جو احسان نہ ہو ابن آدم ہے، نہ کچھ اور؛ تجھے خیال رہے حد نسیان سے بڑھ کر کہیں عصیان نہ ہو اپنے ہاتھوں سے ہی خود اپنی عمارت نہ رگرا مخرب دین نہ بن؛ دشمن ایمان نہ ہو اپنے اوقات کو؛ اے نفس حریص وطامع شکر منت میں لگا؛ طالب احسان نہ ہو آگ ہوگی ؛ تو دُھواں اُس سے اُٹھے گا محمود غیر ممکن ہے؛ کہ ہو عشق، پہ اعلان نہ ہو اک طرف عقل کے شیطاں ہے؛ تو اک جانب نفس ایک دانا کو ہیں گھیرے ہوئے؛ دیوانے دو ارتباط عاشق و معشوق کے سامان کر پھر میری بگڑی بنادے؛ ہاں بنادے آج تُو