بیت بازی — Page 675
675 ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ام ۴۲ ۴۳ ۴۴ یہ ہوں میری دعائیں ساری مقبول ملے عزت ہمیں دونوں جہاں میں یا تو ہم پھرتے تھے ان میں؛ یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ، کوچہ ہائے قادیاں سارے ختم قرآن کرچکے ہیں دلوں کو نور حق سے بھر چکے ہیں یہ میدانِ دعا میں کبھی آئیں تو دل اعداء کے سینوں میں دہل جائیں جب ہو قصر احمدی کے پاسباں ہوں یہ ہر میداں کے یارب! پہلواں ہوں یا رب تیری مدد ہو؟ تو اصلاح خَلق اُٹھنے کا ورنہ مجھ سے یہ بارگراں نہیں یہ فخر گم نہیں مجھ کو؟ کہ دل مسل کے مرا وہ پیار سے مجھے خانہ خراب کہتے ہیں یہ نہ سمجھ؛ کہ وہ دن کھائے پیئے جیتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں؛ مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں یوں نہیں ہیں جھوٹی باتوں پر ؛ یہ اترانے کے دن ہوش کر غافل! کہ یہ دن تو ہیں گھبرانے کے دن يا مسيـح ح الخلق عدوانا پکار اٹھیں گے لوگ خود ہی منوائے گا سب سے؛ یار منوانے کے دن یہ دریا؛ جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے تو قدرت سے پیدا کئے ہیں یا الہی رحم کر اپنا؟ کہ میں بیمار ہوں دل سے تنگ آیا ہوں ؛ اپنی جان سے بیزار ہوں يا البي! ترى ألفت میں ہوا ہوں مجنوں خواب میں ہی کبھی ، میں تجھ کو جو پالوں تو کہوں یہ کیسا عدل ہے؛ کہ کہیں اور ہم بھریں اغیار کا بھی قضیہ؛ چکانا پڑے ہمیں یاں نہ گر روؤں؛ تو میں روؤں کہاں؟ یاں نہ چلاؤں تو چلاؤں کہاں؟ یہ وقت؛ وقت حضرت عیسی ہے دوستو ! جو نائب خدا ہیں؛ جو ہیں مہدی زماں یہی جی ہے؛ کہ پہنچے یار کے پاس ہے مریغ دل تڑپتا؛ آشیاں میں یونہی کہو نہ ہمیں لوگو! کافر و مرتد ہمارے دل کی خبر؛ تم پر آشکار نہیں