بیت بازی — Page 674
674 یہ تین جو پسر ہیں؛ تجھ سے ہی یہ ثمر ہیں یہ میرے باروئم ہیں؟ تیرے غلام در ہیں یارو! خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں خو اپنی پاک صاف؛ بناؤ گے یا نہیں سچ ہے؛ کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا خدا کی خبر لاتے ہیں یارب! ہے تیرا احساں؛ میں تیرے در پہ قرباں تو نے دیا ہے ایماں؛ تو ہر زماں نگہباں یہ نانگ سے کیوں رہ گیا اک نشاں بھلا اس میں حکمت تھی کیا ڈر نہاں در عدن سے؛ یاد جو ہردم رہے؛ اس کو دعائے خاص میں کس طرح دیں گے بھلا؛ اہل وفائے قادیاں دعا ہے؛ میرا دل ہو، اور تیرا پیار ہو میرا سر ہو؛ اور تیرا پاک سنگ آستاں یاد ہے؛ چھیں مے سن آٹھ حزب المومنیں وہ غروب شمس وقت صبح محشر آفریں یہ ارادے؛ اور اتنی شانِ ہمت دیکھ کر اس گھڑی بھی ہو رہے تھے موحیرت سامعیں راگ، دل کا راز ہے؛ سُن دردآشنا کچھ ہمنوائے شور عنادل نہیں ہوں میں یہ کلام طاهر یہ ڈر کے پجاری بیچنے والے ہیں دین و ایمان وطن اے دیس سے آنے والے بتا ! کس حال میں ہیں یارانِ وطن یا تیرے دھیان کی جوگن ہمہ رنج و آزار خود چلی آئی ہے پہلو میں بجائے غم وحزن سوچ کے چلا گیا؛ باورچی خانے میں باؤر چی تھا مگن وہاں؛ حلوہ پکانے میں کلام محمود یہ شرارت، سب دھری رہ جائے گی ؟ جب وہ خُدا ہوش میں لائے گا تم کو ؛ ہوش میں لانے کے دن ؛ یاس و نومیدی نے گھیرا ہے مجھے اس کے پنجہ سے مجھے چھڑوائے کون ہے دنیا میں کرتا رہنمائی یہ عقی میں کرے گا شاد و فرحاں ہر کامیابی کا ہے باعث یہی کرتا ہے ہر مشکل کو آساں یہ نعمت ہم کو بے خدمت ملی ہے سکھایا ہے ہمیں مولیٰ نے قرآن یہی ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶