بیت بازی — Page 607
607 ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ کلام طاهر اور اُن کی جان کے دشمن ہیں؟ اے دیس سے آنے والے بتا! جو دیوانے ہیں مجبوروں کا حال بھلا؟ اے دیس آنے والے بتا! جان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن کیا جانیں تن آسان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن اور گھر کے مالک ہی بن بیٹھے؟ دیس وردی دربانِ وطن سے آنے والے بتا! کس حال میں ہیں یارانِ وطن آنکھ ہے میری؛ کہ اشکوں کی ہے اک را بگذار دل ہے؛ یا ہے کوئی مہمان سرائے غم و حزن اُس رحمت عالم ابر کرم کے یہ کیسے متوالے ہیں وہ آگ بجھانے آیا تھا؛ یہ آگ لگانے والے ہیں اب کس کو بھیج بلائیں گے ؟ کیسے سینے سے لگائیں گے مر کر بھی کوئی لوٹا ہے؛ سائے بھی کبھی ہاتھ آئے ہیں اب آپ کی باری ہے تڑپیں؟ سوتے میں ہنسیں، روتے جاگیں؟ اب آپ ہمیں آوازیں دیں که خواب ملن کے آئے ہیں ۵۰ اب کبھی ہم سے ملو گے بھی، تو بس خوابوں میں یہ کنول اب نہ یہ کنول اب نہ کھلیں گے کہیں تالابوں میں اُن کو سمجھائیں ان سے بھی زیادہ ہیں؛ اپنوں کے ہاتھ مرنے والوں پر ؛ ۴۹ دیده لوگ دنیا میں روز ہوتے ہیں سوگ دنیا میں آپ آپ کہنے لگی کہ کیوں اتا! سب کو غمگین کر دیا ہے جو؛ اتنے اداس بیٹھے ہیں آپ کے آس پاس بیٹھے ہیں کی بیٹیاں ہیں اور بھی؛ اپنے ماں باپ سے بھی چھپ چھپ کر جو اپنوں غیروں کے ظلم سہتی ہیں راز دل آپ ہی سے کہتی ہیں اتنا نشہ ہے تیرے پیار کے گیتوں میں؛ کہ میں دوست کہہ دیتا ہوں تجھ کو؛ اسی مد ہوشی میں آپ کی داڑھی کا برگد دیکھ پاتیں وہ اگر اس پر پینگیں ڈالتیں؛ گاتیں، بجاتیں تالیاں اور پھر تم سے میں مل جاؤں گا جلدی یا بدیر اس جگہ مل کے جُدا پھر نہیں ہوتے ہیں جہاں ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۶