بیت بازی — Page 606
606 ۲۲ ۲۳ ۲۴ اے عزیزو! سنو کہ بے قرآں حق کو ملتا نہیں کبھی انساں اس کے اوصاف کیا کروں میں بیاں وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اک جاں اس کے منکر جو بات کہتے ہیں یوں ہی اک واہیات کہتے ہیں ۲۵ اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دامن اے لوگو! عیش دنیا کو ہرگز وفا نہیں کیا تم کو خوف مرگ و خیالِ فنا نہیں ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ودر عدن آپ چل کر تُو نے دکھلا دی رَهِ وصل حبیب تو نے بتلایا کہ یوں ملتا ہے یار بے نشاں السلام! اے ہادی راہِ ہدیٰ جانِ جہاں والصلوۃ! اے خیر مطلق؛ اے شہر کون ومکاں السلام! اے نبی والا ایمان شان والصلوة ! اے موسس ۳۰ ابر رحمت ہر طرف چھائے چلے بادکرم بارش انوار سے پر ہو؛ فضائے قادیاں آج ہر ایک ہے مشتاق لقائے شہ دیں گھر میں بیٹھا کوئی رہ جائے؛ یہ ممکن ہی نہیں ایک پر ایک گرا پڑتا ہے اللہ رے شوق خوف ہے؛ اوروں سے پیچھے نہ میں رہ جاؤں کہیں آئیں منصور ومظفر؛ کامیاب و کامراں قصر گیشی پر گاڑ آئیں؟ لوائے قادیاں اس گل رعنا کو جب گلزار میں پانی نہیں ڈھونڈ نے جاتی ہے تب؛ بادصبائے قادیاں ۳۵ اک جوان منحنی اُٹھا بعزم استوار اشکبار آنکھیں؛ لبوں پر عہد راسخ دل نشیں ایسی باتیں جن سے پھٹ جاتا ہے پتھر کا جگر صبر سے سنتا رہا؛ ماتھے یہ بل آیا نہیں ارض ربوہ جس کی شاہد ہے؛ وہ معمولی نہ تھا خون فخر المرسلیں تھا؛ شیر اُم المومنین آج فرزند مسیحائے زماں بیمار ہے دعوی دارانِ محبت سور ہے جاکر کہیں اوروں سے ہوا تھا وہ ہم سے ہوا نہیں ہم سو گئے تو ہم کو جگایا گیا نہیں آقا جو بے رُخی تیری جانب رخی تیری جانب سے پاتے ہیں ہنتے ہیں غیر اب ہمیں دشمن بناتے ہیں اب تاب صبر کی ہمیں بالکل رہی نہیں آفت وہ کونسی ہے؟ جو ہم نے سہی نہیں ایک ہی زینہ ہے اب بامِ مراد وصل کا بے ملے تیرے؛ ملے ممکن نہیں وہ دل ستاں ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ لد ۴۱ ۴۲