بیت بازی

by Other Authors

Page 504 of 871

بیت بازی — Page 504

504 کام کیا عزت سے ہم کو شہرتوں سے کیا غرض گر وہ ذلت سے ہو راضی؛ اُس پہ سوعزت ثار کوئی ره نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار کیا یہی اسلام کا ہے دوسرے دینوں پہ فخر کردیا قصوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار کس طرح کے تم بشر ہو؛ دیکھتے ہو صد نشاں پھر وہی ضِد وتعصب اور وہی کین و نقار کام دکھلائے جو تو نے میری نصرت کیلئے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار کس طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر نثار کہتے ہیں یورپ کے ناداں؟ یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا؟ یہ کیا مشکل تھا کار کیا تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اس دن سے ڈرو یارو! کہ ہے روزشمار کچھ تو سمجھیں بات کو یہ؛ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں! عجب ان کو کیا اپنا شکار کام جو دکھلائے اس خلاق نے میرے لئے کیا وہ کر سکتا ہے جو ہو مفتری شیطاں کا یار کشتی اسلام بے لطف خدا اب غرق ہے اے جنوں! کچھ کام کر؛ بیکار ہیں عقلوں کے وار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں؛ ہم نہیں ہیں نا اُمید آیت لاتنسوا رکھتی ہے دل کو استوار کچھ تو سوچو ہوش کر کے ؛ کیا یہ معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار کون سی آنکھیں؛ جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں؛ جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار کھا رہا ہے دیں تمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار کیوں کریں گے وہ مدد؛ ان کو مدد سے کیا غرض ہم تو کافر ہوچکے؛ ان کی نظر میں بار بار کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زبدۃ الابرار ہیں پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحی رحماں کی پھو ہار کچھ ہی ہو؟ پر وہ نہیں رکھتا زمانہ میں نظیر فوق عادت ہے؛ کہ سمجھا جائے گا روزشمار کب یہ ہوگا؟ یہ خدا کو علم ہے؛ پر اس قدر دی خبر مجھ کو؛ کہ وہ دن ہوں گے ایامِ بہار کیوں نہیں ڈرتے خدا سے؛ کیسے دل اندھے ہوئے بے خدا ہرگز نہیں بدقسمتو! کوئی سہار ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ لده ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴