بیت بازی — Page 503
503 ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۹ ۲۰ ۲۱ ۲۲ ۲۳ کس رح پیٹیں؛ کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سُو ہر کنار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی؛ کہ کیسے سوگئے کس قدر ہے حق سے نفرت ؛ اور ناحق سے پیار کیا خدا نے اتقیاء کی عون ونصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ ؛ از ابتدائے روزگار کیا خدا بھولا رہا؟ تم کو حقیقت مل گئی کیا رہا وہ بیخبر؛ اور تم نے دیکھا حالِ زار ۱۸ کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بد گماں جن کی عادت میں نہیں شرم وشکیب واصطبار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار کون روتا ہے؛ کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہرومہ کی آنکھ غم سے ہوگئی تاریک و تار کیا کروں تعریف حُسنِ یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیل نفسِ دُوں سے پار کیا تماشا ہے؟ کہ میں کافر ہوں ، تم مومن ہوئے پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار کیا اچنبھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا؛ جو چاہیئے تھا مومنوں کا دوستدار کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے دل میں اُٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سوسو بخار کچھ نہ تھی حاجت تمہاری؛ نے تمہارے مکر کی خود مجھے نابود کرتا؟ وہ جہاں کا شہریار کیا قسم کھائی ہے یا کچھ پیچ قسمت میں پڑا روز روشن چھوڑ کر ہیں عاشق شبہائے تار کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک اژدھا بن بن کے آئے؟ ہوگئے پھر سوسمار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو؛ جاءِ دنیا کیلئے جاہ دنیا کب تلک؛ دنیا ہے خود نا پائیدار کون در پردہ مجھے دیتا ہے ہر میداں میں فتح کون ہے جو تم کو ہردم کر رہا ہے شرمسار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو! کہ چر چا کس قدر ہے ہر کنار کھول کر دیکھو برا ہیں؟ جو کہ ہے میری کتاب اس میں ہے یہ پیشگوئی؛ پڑھ لو اس کو ایک بار کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش سے کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنیوالے سے پیار کون ہے جس کے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اُس کے جس کا دل فگار کون چھوڑے خواب شیر میں کون چھوڑے اکل وشرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ { } } } }